کینچلی
خداوندا
مری مجہول فطرت پر
منڈھی ہے کینچلی کیسی
کہ جس پر ناخن تدبیر کا جادو نہیں چلتا
سبھی آلات جراحی کو میں نے آزمایا ہے
مگر وہ کینچلی ہے ہستیٔ خود کی عجب عاشق
چپک کر رہ گئی ہے جو
مرے ٹھنڈے مساموں سے
خداوندا
مری مجہول فطرت کو
حقیقت آشنا کر دے
سراپا آئینہ کر دے