خواب
نہ جانے کون سی ساعت میں یہ گمان ہوا
بعید خواب کے روزن سے جھانکتا ہے کوئی
غنودہ ذہن کے آفاق ہو گئے روشن
کسل کے ساتھ شعور زماں ہوا بیدار
پس شعور جو بکھرے پڑے تھے مشکیزے
طلوع ذات کے احساس سے ہوئے لبریز
مگر وہ خواب جو غرق شعور تھے یکسر
بساط چشم پہ جن کو ابھی ابھرنا تھا
وہ سارے خواب کہیں اور کر گئے ہجرت
وہ خواب جو مرے ماضی کے آبگینے تھے
وہ خواب جن سے مرا حال تھا ابھی منسوب
وہ خواب جو مری موجودگی کے ضامن تھے
جو آبنائے تصور کی لہر بنتے تھے
بساط چشم پہ جن کو ابھی ابھرنا تھا
وہ سارے خواب کہیں اور کر گئے ہجرت
نہ جانے کون سی ساعت میں یہ گمان ہوا
بعید خواب کے روزن سے جھانکتا ہے کوئی