شاعری

عید

اے جمال دوست تیری دید ہونی چاہئے غم زدوں کی بھی تو آخر عید ہونی چاہئے جب نہیں ہے آپ کو ترک تعلق کا خیال آپ ہی کے قول سے تردید ہونی چاہئے مانتا ہوں میں کہ بے شک قول کے سچے ہیں آپ لیکن اپنے عہد کی تجدید ہونی چاہئے میری جانب سے سہی تحریک تکمیل وفا لیکن اس کو آپ کی تائید ہونی ...

مزید پڑھیے

اقبال کا شعر

ایمان کی تفسیر قلندر کا ترانہ سمجھے تو پلٹ آئے بلندی پہ زمانہ بے باک نگاہوں کا فلک بوس اشارہ سنگین چٹانوں سے گزرتا ہوا دھارا بے تابئ فطرت کی سکوں بخش کہانی شعلوں سے بنائی ہوئی شبنم کی روانی اشکوں میں نہائی ہوئی اک موج تبسم ملاح کا گرداب میں جس طرح ترنم الہام میں تکمیل حقیقت ...

مزید پڑھیے

اقبالؔ

سونے والوں کو پیام صبح نو دیتی ہوئی خواب کی دنیا اٹھی انگڑائیاں لیتی ہوئی مطلع مشرق پہ چمکا آفتاب‌ شاعری ہر کرن جس کی بنی تار رباب شاعری دل پہ تھا جو داغ غفلت اس کو آہیں دھو گئیں خون مشرق میں ہزاروں بجلیاں حل ہو گئیں ضبط کے زخم نہاں فریاد سے بھرنے لگے یعنی بندے بھی خدا سے ...

مزید پڑھیے

بھکارن

پوپلا منہ ہل رہا ہے جھریوں کے ساتھ ساتھ بوجھ لاٹھی کا لئے تھرا رہا ہے نرم ہاتھ ملگجی ساڑی کے دامن میں ہے تھیلی پان کی سہہ رہی ہے گالیاں دہلیز پر دربان کی یاس سے جھکتی ہے دروازے سے ٹکرا کر نظر مانگتی ہے ایک پیسہ وہ بھی اللہ نام پر اس جہاں میں کوئی اس کا پالنے والا نہیں اس کے منہ ...

مزید پڑھیے

گوتم بدھ

اک جنازے کو اٹھائے جا رہے تھے چند لوگ تم نے پوچھا کیا ہوا کیوں جا رہے ہو تم ملول تم کو لوگوں نے بتایا مر گیا ہے ایک شخص اور یوں مرتے ہیں ناداں ہوں کہ ارباب عقول مانگنے کو چند پیسے پیٹ بھرنے کے لئے جا رہا تھا راستے سے ایک بے بیچارہ فقیر تم نے دیکھا کوئی اس کا پوچھنے والا نہیں تھا ...

مزید پڑھیے

سراج اورنگ آبادی

جبین زیست پہ مرقوم ہے مری آواز کہ تو نے زندہ کئے حسن و عشق کے اعجاز بدل بدل کے تری دھڑکنوں کو نام ملا کبھی نوائے حقیقت نوائے مجاز تری صدائے محبت نے فاش کر ڈالا وہ راز حشر جو رکھتا ہے ایک محشر راز نشان راہ کہیں زندگی کے نقش قدم کہیں حیات کے روندے ہوئے نشیب و فراز کبھی تو اشک میں ...

مزید پڑھیے

کسان

برہنہ جسم پسینہ میں غرق ننگے پاؤں مگر سکون ہے یوں دل میں جیسے ٹھنڈی چھاؤں گیہوں کے کھیت سے کٹیا میں اپنی آیا ہے تصورات کی دنیا بھی ساتھ لایا ہے ہے اک پھٹی ہوئی کمبل غریب کاندھوں پر سیاہ ابر پہ رہ رہ کر اٹھ رہی ہے نظر پڑا ہے کھیت کا سامان ایک کونے میں ہیں اس کی زیست کے اسرار پا ...

مزید پڑھیے

جامعہ‌ عثمانیہ

اے کہ تیری خدمتیں سرمایہ دار علم ہیں تیرا مقصد زیست کا آغاز خوش‌ انجام ہے اے کہ تیری جدتیں آئینہ دار علم ہیں دائمی تسکیں زمانے کو ترا پیغام ہے تیرے پیکر میں نہاں ہے خواہش اوج کمال ہے تری تعمیر میں علم و عمل کی کائنات تیرے سینے میں ہے مضطر جنبش موج خیال چشمۂ بخشش ہے تیرا چشمۂ ...

مزید پڑھیے

ہولی

ایک عورت کی زبان سے چل مری سندر سہیلی ہم کہیں چھپ جائیں گے آج ہے ہولی کا دن پیتم مرے گھر آئیں گے سامنے جب میں نہ آؤں گی بہت گھبرائیں گے ہر جگہ ڈھونڈیں گے مجھ کو ڈھونڈھ کر شرمائیں گے سامنے آ جاؤں گی پیتم کے خوش ہو جائیں گے ان میں میں کھو جاؤں گی اور مجھ میں وہ کھو جائیں گے میرے من ...

مزید پڑھیے

مزدور

ہے تیرے سر پہ قناعت کا تاج اے مزدور کہ تیرے سامنے ہوتا ہے خم سر مغرور ہر ایک سانس ہے تیری شکست کی آواز ترے سکون میں لیکن ہیں فتح کے انداز ہے تیرے رنگ میں پژمردہ حسرتوں کا ہجوم مگر کسی نے بھی دیکھا نہیں تجھے مغموم ترے عقیدے میں غفلت ہے اک گناہ عظیم تجھے جگانی ہے سورج کے ساتھ موج ...

مزید پڑھیے
صفحہ 497 سے 960