اقبالؔ
سونے والوں کو پیام صبح نو دیتی ہوئی
خواب کی دنیا اٹھی انگڑائیاں لیتی ہوئی
مطلع مشرق پہ چمکا آفتاب شاعری
ہر کرن جس کی بنی تار رباب شاعری
دل پہ تھا جو داغ غفلت اس کو آہیں دھو گئیں
خون مشرق میں ہزاروں بجلیاں حل ہو گئیں
ضبط کے زخم نہاں فریاد سے بھرنے لگے
یعنی بندے بھی خدا سے گفتگو کرنے لگے
عارض پر نور جھلکا گیسوئے شب رنگ سے
جوئے بار ساز دل نکلی سکوت سنگ سے
اشک خونیں میں نظر آئی تبسم کی جھلک
نغمۂ بلبل بنی خاموش پھولوں کی مہک
کارواں بڑھنے لگا تیزی سے منزل کی طرف
کائنات درد خود کھینچنے لگی دل کی طرف
دہر کے دھارے پہ طوفانی ہوا سہنے لگی
ناؤ مشرق کی کنارے کی طرف بہنے لگی
جاگ اٹھا مشرق دل اقبال کی دھڑکن گواہ
واہ کا محشر لئے آتی ہے جس کی لب پہ آہ
قلب شاعر سے صداقت لے کے نکلی شاعری
سچ کہا ہے شاعری جزویست از پیغمبری