جامعہ‌ عثمانیہ

اے کہ تیری خدمتیں سرمایہ دار علم ہیں
تیرا مقصد زیست کا آغاز خوش‌ انجام ہے


اے کہ تیری جدتیں آئینہ دار علم ہیں
دائمی تسکیں زمانے کو ترا پیغام ہے


تیرے پیکر میں نہاں ہے خواہش اوج کمال
ہے تری تعمیر میں علم و عمل کی کائنات


تیرے سینے میں ہے مضطر جنبش موج خیال
چشمۂ بخشش ہے تیرا چشمۂ آب حیات


تیری ہر حرکت میں مخفی آرزوئے اضطرار
تیری تدبیر عمل پر انحصار زندگی


تیرے ہر آرام میں پنہاں سکوت بے قرار
تیرا احساس کرم جان بہار زندگی


کاش تو میرے لئے وجہ کشود کار ہو
تیری قم سے بخت خوابیدہ مرا بیدار ہو