شاعری

ٹیگور محبت کا فرشتہ

بانسری کی لے پہ جیسے جاگتے تاروں کا ناچ سردیوں کی کپکپی کو چوم لے جس طرح آنچ چاندنی کی کروٹیں جیسے اندھیری رات میں جیسے ندی کی روانی آخری برسات میں جیسے لہریں چھیڑ دیں دھیمے سروں میں جل ترنگ جیسے کلیوں میں سما جائے بہاروں کی امنگ بن کی خاموشی میں جیسے مست کوئل کی پکار آسماں ...

مزید پڑھیے

داغؔ

ہے اب تک سحر سا چھایا تری جادو نوائی کا دل اردو پہ اب تک داغ ہے تیری جدائی کا زبان شعر سے اب بھی تری آواز سنتا ہوں جو نکلا تھا تری مضراب سے وہ ساز سنتا ہوں تغزل کو تری رنگیں نوائیں یاد ہیں اب تک ترے نغموں سے دل کی بستیاں آباد ہیں اب تک دلوں کو اب بھی چمکاتی ہے شمع آرزو تیری لب ...

مزید پڑھیے

ڈاکٹر زورؔ سے

تو نے کی تخلیق اے محو خرام جستجو قطرۂ خون جگر سے کائنات رنگ و بو اپنی دل سوزی سے ذرہ کو بنایا آفتاب تو نے الٹا روئے مستقبل سے ماضی کا نقاب تیری بیتابی نہیں آلودۂ نام و نمود زندگی کو اک پیام مستقل تیرا وجود وہم باطل ہے ترے احساس کو خواب گراں تیرے ہر اک سانس کی قیمت ہے عمر ...

مزید پڑھیے

بہار قرنطینہ میں ہے

ضرورتوں بیمار فضا سے کہہ دو ابھی خوشبو کو گلاب رنگوں کو خواب رگوں میں جمے سیال کو لہو لکھنا ہے بے کیف و ساکت منظر کو خوش خصال لکھنا ہے ان چڑیوں کو لوٹنے دو فضا کے حبس میں جو محصور ہیں ضرورتوں کو سرخ گلال لکھنا ہے اس کرلاتی خاموشی سے بہتے سر نکلنے دو تنہائی کو جشن طرب دوست کو یاد ...

مزید پڑھیے

محبت کا سرکاری ملازم

سانپ سیڑھی کھیل نے زہریلے سانپوں سے رنگوں کی کاشت کچھ یوں کی محبت سرکاری ملازم ہو گئی جو وقت پہ سوتی جاگتی کھاتی پیتی تو ہے لیکن کنڈلی مارے بیٹھی رہتی ہے زہریلے ناگ رنگین ہوتے جاتے ہیں اور محبت اور بھی خفتہ محبت کا سرکاری ملازم زہر باد چوس کر پھینکنے کے لیے اپنی نوکری کا حکم ...

مزید پڑھیے

کشمیر

یہاں خواب سکوں پرور میں بھی بیداریاں دیکھیں یہاں ہر ہوشیاری میں نئی سرشاریاں دیکھیں یہاں کی گھاٹیوں میں حسن کے چشمے ابلتے ہیں یہاں ہر چیز پر جذبات انسانی مچلتے ہیں پریشاں منظری میں بھی یہاں فطرت سنورتی ہے خموشی میں بھی اک موج ترنم رقص کرتی ہے وہ شالیمار کی رنگینیوں میں حسن ...

مزید پڑھیے

از سر نو

تجھے چھو کر بہار آئی تھی کنج غم میں برسا تھا ترے آنے سے ساون چاندنی چھٹکی تھی پھولی تھی شفق بولی تھی کوئل دیکھ کر تجھ کو عمل یہ سانس لینے کا بہت آساں ہوا تھا کھیل سا لگنے لگا تھا آزمائش سے گزرنا کارزار زیست میں، دن رات کرتا اب۔۔۔ مگر پھر ابتدا سے کاوش پیہم میں گھومے جا رہے ...

مزید پڑھیے

تجربے کی سرحد پر

راگ ڈوب جاتے ہیں ساز ٹوٹ جاتے ہیں آسماں کے گوشوں میں ان گنت ستاروں کے دیپ بجھنے لگتے ہیں دن کی دھوپ میں اکثر وصل ممکنہ کے سب عہد چھوڑ دیتے ہیں باتوں میں کھنک ناپید اور چمک نگاہوں میں ماند پڑتی جاتی ہے ریشمین لہجے بھی کھردرے سے لگتے ہیں صحبتوں میں پہلی سی بے خودی نہیں رہتی چہرۂ ...

مزید پڑھیے

چاندنی کہتی ہے

روز و شب حلقۂ آفات ہیں ہر لحظہ جواں سلسلہ وقت کی گردش کا یہاں سب ہیں پابندیٔ اوقات زمانہ میں مگن جان و تن فہم و خرد ہوش و گماں تم ہی تنہا نہیں اس سیل رواں میں مجبور میں بھی جیتی ہوں یہاں خود سے گریزاں ہو کر پھر بھی اک لمحے کی فرصت جو میسر آئے دل وہیں چپکے سے دھڑکن کو جگا دیتا ...

مزید پڑھیے

کرشن چندر

ابھی تو فٹ پاتھ کے مکینوں کی قسمتوں میں گھروں کے سپنے ہیں نامکمل ابھی تو رستے طویل ہیں راہ میں گڈھے ہیں ابھی تو جنگیں ہیں سرحدیں ہیں مہاجرت ہے ابھی تو ذاتوں کا دیوتا مسکرا رہا ہے ابھی شکستیں ہیں چار جانب ابھی محبت برہنہ پا ہے ابھی ہے شہر بتاں کا مرکز بہت سا ریشم بہت سی چاندی بہت ...

مزید پڑھیے
صفحہ 498 سے 960