ٹیگور محبت کا فرشتہ
بانسری کی لے پہ جیسے جاگتے تاروں کا ناچ سردیوں کی کپکپی کو چوم لے جس طرح آنچ چاندنی کی کروٹیں جیسے اندھیری رات میں جیسے ندی کی روانی آخری برسات میں جیسے لہریں چھیڑ دیں دھیمے سروں میں جل ترنگ جیسے کلیوں میں سما جائے بہاروں کی امنگ بن کی خاموشی میں جیسے مست کوئل کی پکار آسماں ...