بھکارن
پوپلا منہ ہل رہا ہے جھریوں کے ساتھ ساتھ
بوجھ لاٹھی کا لئے تھرا رہا ہے نرم ہاتھ
ملگجی ساڑی کے دامن میں ہے تھیلی پان کی
سہہ رہی ہے گالیاں دہلیز پر دربان کی
یاس سے جھکتی ہے دروازے سے ٹکرا کر نظر
مانگتی ہے ایک پیسہ وہ بھی اللہ نام پر
اس جہاں میں کوئی اس کا پالنے والا نہیں
اس کے منہ میں اک نوالہ ڈالنے والا نہیں
سنگ دل دنیا میں قسمت کی کلی کھلتی نہیں
اس کو ذلت کے صلے میں بھیک بھی ملتی نہیں