عید
اے جمال دوست تیری دید ہونی چاہئے
غم زدوں کی بھی تو آخر عید ہونی چاہئے
جب نہیں ہے آپ کو ترک تعلق کا خیال
آپ ہی کے قول سے تردید ہونی چاہئے
مانتا ہوں میں کہ بے شک قول کے سچے ہیں آپ
لیکن اپنے عہد کی تجدید ہونی چاہئے
میری جانب سے سہی تحریک تکمیل وفا
لیکن اس کو آپ کی تائید ہونی چاہئے
آپ نے تنقیص کر دی داستان شوق کی
میرا یہ ارمان تھا تنقید ہونی چاہئے
ہر قدم پر رہرو الفت کو منزل کے لئے
شوق ہونا چاہئے امید ہونی چاہئے
جو بیاں اظہار حرف مدعا پر ختم ہو
اس کی بالکل مختصر تمہید ہونی چاہئے
ہم کو بھی معلوم ہو کن سے ہے رونق بزم کی
آپ کے احباب کی تفرید ہونی چاہئے
آپ جب چاہیں مرے چلو میں تلچھٹ ڈال دیں
کب کہا تھا محفل جمشید ہونی چاہئے
سجدہ ریزی کے لئے اس رہ گزر میں اے جبیں
نقش پائے دوست کی تقلید ہونی چاہئے