شاعری

بازیافت

گزرے ہوئے ماہ و سال کے غم تنہائی شب میں جاگ اٹھے ہیں عمر رفتہ کی جستجو میں اشکوں کے چراغ جل رہے ہیں آسائش زندگی کی حسرت ماضی کا نقش بن چکی ہے حالات کی ناگزیر تلخی ایک ایک نفس میں بس گئی ہے ناکامئ آرزو کو دل نے تسلیم و رضا کے نام بخشے ملنے کی خوشی، بچھڑنے کا غم کیا کیا تھے فریب ...

مزید پڑھیے

اے جوئے آب

تمام عمر کے سود و زیاں کا بار لیے؟ ہر انقلاب زمانہ سے منہ چھپائے ہوئے حیات و مرگ کی سرحد پہ نیم خوابیدہ میں منتظر تھا مسرت کی کوئی دھندلی کرن زماں مکاں سے پرے اجنبی جزیروں سے دم سحر مجھے خوابوں میں ڈھونڈتی آئے فشار وقت کی سرحد سے دور لے جائے کھلی جو آنکھ طلوع سحر نے ہنس کے ...

مزید پڑھیے

منجمد آنکھیں

کھلی آنکھوں کو کوئی بند کر دو کھلی آنکھوں کی ویرانی سے ہول آتا ہے کوئی ان کھلی آنکھوں کو بڑھ کر بند کر دو یہ آنکھیں اک انوکھی یخ زدہ دنیا کی ساکت روشنی میں کھو گئی ہیں اب ان آنکھوں میں کوئی رنگ پیدا ہے نہ کوئی رنگ پنہاں ہے نہ کوئی عکس گلبن ہے نہ کوئی داغ حرماں ہے نہ گنج شائگاں کی ...

مزید پڑھیے

شب چراغ

بسوں کا شور دھواں گرد دھوپ کی شدت بلند و بالا عمارات سرنگوں انساں تلاش رزق میں نکلا ہوا یہ جم غفیر لپکتی بھاگتی مخلوق کا یہ سیل رواں ہر اک کے سینے میں یادوں کی منہدم قبریں ہر ایک اپنی ہی آواز پا سے رو گرداں یہ وہ ہجوم ہے جس میں کوئی فلک پہ نہیں اور اس ہجوم سر راہ سے گزرتے ہوئے نہ ...

مزید پڑھیے

نیا سفر

تعلقات کا افسوں کدورتوں کا غبار دلوں کا بغض، محبت کے دائروں کا حصار مسرتوں کا ہر اک رنگ، غم کا ہر لمحہ گزرتی موج کے مانند ابھر کے ڈوب گیا خلوص و مہر و عداوت کی ساری زنجیریں پلک جھپکنے کی مہلت میں جل کے راکھ ہوئیں نہ کٹنے والے کٹھن دن خیال و خواب ہوئے نہ آنے والے جو دن تھے وہ آ کے ...

مزید پڑھیے

آخری رات

قریب آخر شب ہے مرے گلے لگ جاؤ وداع شام طرب ہے مرے گلے لگ جاؤ اب ایک عمر جدائی کے فاصلے ہوں گے بس ایک وقفۂ شب ہے مرے گلے لگ جاؤ گلہ گزار زمانہ ہوں تم خفا کیوں ہو گلہ تو حسن طلب ہے مرے گلے لگ جاؤ تمام عمر جو رہ رہ کے یاد آئے گی یہی وہ ساعت شب ہے مرے گلے لگ جاؤ دیار غیر میں تم کو کہاں ...

مزید پڑھیے

سحر ہونے تک

لرزتے سایوں سے مبہم نقوش ابھرتے ہیں اک ان کہی سی کہانی، اک ان سنی سی بات طویل رات کی خاموشیوں میں ڈھلتی ہے فسردہ لمحے خلاؤں میں رنگ بھرتے ہیں صدائیں ذہن کی پنہائیوں میں گونجتی ہیں ''خزاں کے سائے جھلکتے ہیں تیری آنکھوں میں تری نگاہوں میں رفتہ بہاروں کا غم ہے'' حیات خواب گہوں ...

مزید پڑھیے

مرنے والے کے کمرے میں

یوں رگ و پے میں اجل اتری ہے ہاتھ ساکت ہیں دعا کیا مانگیں آنکھ خاموش ہے، کیا دیکھے گی ہونٹ خوابیدہ ہیں کیا بولیں گے ایک سناٹا ابد تا بہ ابد جہد یک عمر کا حاصل ٹھہرے درد کا شعلہ رگ جاں کا لہو جنس بے مایہ تھے بے مایہ رہے تیرہ خاک ان کی خریدار بنے نکہت گل کی طرح آوارہ بوئے جاں، وسعت ...

مزید پڑھیے

اندھا

سنتا ہے حسن شمس و قمر دیکھتا نہیں یعنی نظام شام و سحر دیکھتا نہیں اس کے بھی پیرہن پہ گناہوں کے داغ ہیں دنیا کو چاہتا ہے مگر دیکھتا نہیں اس کو بھی ہیں نصیب محبت کی لذتیں دل تھامتا ہے تیر نظر دیکھتا نہیں اس کے بھی دل میں آگ بھڑکتی ہے عشق کی جلتا ہے اور رقص شرر دیکھتا نہیں اس کے ...

مزید پڑھیے

ولیؔ

اے دکن کی سر زمیں اے قبلۂ ہندوستاں تیرے ذرے مہر ہیں تیری زمیں ہے آسماں عظمت ماضی کا دل افروز نظارہ ہے تو مشرق‌ تہذیب کا پاکیزہ گہوارہ ہے تو تیرے ہر پہلو میں ہیں احساس کی بیداریاں تیرے ہر منظر میں ہیں جذبات کی سرشاریاں ہے خزاں نا آشنا تیرے گلستاں کی بہار تجھ پہ ہے سایہ فگن ...

مزید پڑھیے
صفحہ 496 سے 960