بازیافت
گزرے ہوئے ماہ و سال کے غم تنہائی شب میں جاگ اٹھے ہیں عمر رفتہ کی جستجو میں اشکوں کے چراغ جل رہے ہیں آسائش زندگی کی حسرت ماضی کا نقش بن چکی ہے حالات کی ناگزیر تلخی ایک ایک نفس میں بس گئی ہے ناکامئ آرزو کو دل نے تسلیم و رضا کے نام بخشے ملنے کی خوشی، بچھڑنے کا غم کیا کیا تھے فریب ...