شاعری

روایتی محبت

جھکی جھکی نظروں سے پستکوں کو سینے سے لگائے دھک دھک کرتے دل کو سنبھالے کہیں آنکھیں چار نہ ہو جائیں لیب میں چور نظر سے گھستے کہ آج تو درشن ہو جائیں پر مدہوشی کا عالم تو دیکھیں کہ نظریں ملیں تو شاید بے ہوش ہو جائیں ای میل پر کھلے عام خط کی بات نہیں یہ وہ کچرے میں پھینکا کاغذ بھی کئی ...

مزید پڑھیے

انجام

وہی چہرے نظر کے سامنے ہیں جنہیں پہچاننا مشکل نہیں ہے یہ میرے سامنے برسوں رہے ہیں مگر! اب کس لیے یہ میرے سر میں مسلسل درد سا رہنے لگا ہے (انہیں ہر ایک پل تک تک کے شاید) (مری آنکھیں ہی شاید بجھ رہی ہیں) میں ان آنکھوں سے اب کتنا دکھی ہوں وہی چہرے میں جن سے آشنا ہوں مجھے آنکھوں پہ کتنا ...

مزید پڑھیے

بہانے ڈھونڈتا ہوں میں

بہانے ڈھونڈھتا ہوں میں کہ دفتر سے ذرا جلدی ہی اٹھ جاؤں (مجھے کیا دوستوں سے جا کے ملنا ہے؟) نہیں اک دوسرے سے ہم سبھی تنگ آئے بیٹھے ہیں (مجھے کیا گھر پہنچنا ہے؟) نہیں ہرگز نہیں الٹا بہانے ڈھونڈھتا ہوں میں کہ جتنا ہو سکے اتنا ہی میں گھر دیر سے پہنچوں (مجھے حاصل نہیں کیا بیوی بچوں کی ...

مزید پڑھیے

جو خود میں تشکیل ہو رہا ہے

کبھی کبھی مجھ کو جان پڑتا ہے جیسے مجھ میں گھرا ہوا پربتوں سے خالی سا اک محل ہو جہاں کبھی بدھ کے علم کا اک خزانہ تھا جس جگہ شلوک اور منتر ماحول میں نہیں خود مرے ہی اندر مری صدا میں ہمالیائی ہواؤں کی طرح گونجتے تھے عجیب عظمت کے ساتھ میں یوں الگ تھلک تھا کہ جس طرح میری موت کی ...

مزید پڑھیے

دکھ سے خالی خالی رونا

میں ہوں یا تم ہو یہ سچ ہے اپنے اندر ایک قبیلہ ہر کوئی ہے جس کو شاید رات کو صحرا کے رونے کا راز پتہ ہے ایسا رونا دور کہیں جیسے کچھ بچے صدیوں پہلے ہم نے جن کو قتل کیا ہو اور وہ اپنے قتل سے پہلے روئے چلے جاتے ہوں یا پھر یہ ان روحوں کا رونا ہو جو انسانی روپ میں ظاہر ہو نہ سکی ہوں ریت کے ...

مزید پڑھیے

وہ ایک لڑکی

جو دلیر تھی کبھی جب پیدا ہوئی تھی تو رو رو کر پیر پٹک کر اپنے استیو کو درشانے کی کوشش کرنے لگی پر نظر پڑتے ہی اپنی ماں پر ماں کی بے چارگی نے اسے سہمنا سکھایا اپنی اہمیت دکھانے کی جرأت ہوئی تمہیں کیسے زمانے کی نظروں میں یہ نظر آیا اور بس تبھی سے پیاں پیاں چلنے سے اسکول سے کالج ...

مزید پڑھیے

جواں ہوتا بڑھاپا

میں عمر کی گنتی تو الٹی نہیں کر سکتا پر میں بدلنا چاہتا ہوں تمہاری پرمپرک سوچ تاکہ خود کو محسوس کر سکوں جواں اور حوصلہ مند نقلی دانت لگا کر ٹوٹے سپنے نہیں دیکھوں گا انہیں حالات میں خوابوں کی نئی نیو رکھوں گا بالوں کو رنگنے کی بجائے نئے اندر دھنش رچوں گا چشمے کے بڑھتے نمبروں کو ...

مزید پڑھیے

رستا درد

ایک طرف برسوں پرانا خون کا قرض ہے وہیں دوسری اور ایک مظلوم عورت کا رستا درد ہے وہ عورت میری ماں ہو سکتی ہے یا پڑوسن یا کوئی دور وطن کی اجنبی پر خون کے رشتے سے بڑا یہ درد ہے میرے لئے کیوں کہ ہر پل کچھ رستا ہے اس رشتے کے لئے ساری زندگی کارپیٹ بنی رہی یہ عورت آج بھی ذمہ داریوں کے بوجھ ...

مزید پڑھیے

گرم ہاتھوں میں شاخ

ان کے ذہن ان کی پرانی لکیروں میں ڈوب رہے ہیں وہ اپنی ڈوبتی سانسوں کے اندھیرے کمروں میں ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں ان کی سوچ کا زخمی کوہان مکھیوں کی بھنبھناہٹ سے لرزیدہ ہے انہیں نئے بتوں سے نفرت ہے وہ پرانے بتوں کی پرستش میں نئے پیدا ہونے والے بچے کا گلا گھونٹنا چاہتے ہیں کہ آزادی کی ...

مزید پڑھیے

تاگا تاگا مجھے کون کھولے

سربسر اک الجھتی پہیلی ہوں اور میری الجھن کی سلجھن بھی دشوار ہے تاگا تاگا مجھے کون کھولے مجھے رنگ در رنگ اور حرف در حرف پرکھے کہیں ایسی چشم فسوں کار ہے تو بتاؤ اے مری بے دلی کے شکستہ کنارو مرے خواب ہستی کے موہوم ریشم کو کس دھوپ کی زرد دیمک نے چاٹا کون سی خواہشوں کی ہری ٹہنیوں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 492 سے 960