وہ ایک لڑکی
جو دلیر تھی کبھی
جب پیدا ہوئی تھی
تو رو رو کر پیر پٹک کر
اپنے استیو کو درشانے کی کوشش کرنے لگی پر
نظر پڑتے ہی اپنی ماں پر
ماں کی بے چارگی نے اسے سہمنا سکھایا
اپنی اہمیت دکھانے کی
جرأت ہوئی تمہیں کیسے
زمانے کی نظروں میں یہ نظر آیا
اور بس
تبھی سے پیاں پیاں چلنے سے
اسکول سے کالج تک
کالج سے منڈپ تک
بس سہمی ہوئی ہے
کبھی جو دلیر ہونے کی کوشش کرتی ہے
بے شرم کہلائی جاتی ہے
لوگوں کو چالاک نہ نظر آئے اس لئے
جھٹ پھر سہم جاتی ہے
مانو سہمنا تو اس کی نیت ہے
اس لڑکی سے میرا ایک عجیب سا رشتہ ہے
اس میں مجھے اپنا بچپن دکھتا ہے