روایتی محبت

جھکی جھکی نظروں سے پستکوں
کو سینے سے لگائے
دھک دھک کرتے دل کو سنبھالے
کہیں آنکھیں چار نہ ہو جائیں
لیب میں چور نظر سے گھستے
کہ آج تو درشن ہو جائیں
پر مدہوشی کا عالم تو دیکھیں کہ
نظریں ملیں تو شاید بے ہوش ہو جائیں
ای میل پر کھلے عام خط کی بات نہیں یہ
وہ کچرے میں پھینکا کاغذ بھی کئی تہوں
میں لگا کر سینے میں چھپائیں
کوئی جان نہ لے ہماری اس خاموش محبت کو
سوچ اس خیال سے ہی لال ہو جائے
چھپ چھپ کر راشی پھل پڑھتے
کہ شاید آج ملاقات ہو جائے
ہونٹوں کو سیے چپ چاپ گھومتے
کہ بھول سے تیرا نام بھی لبوں پر نہ آ جائے
ایسی تھیں وہ محبتیں جہاں بنا دیکھے
کئی صدیاں گزر جائیں