تاگا تاگا مجھے کون کھولے
سربسر اک الجھتی پہیلی ہوں
اور میری الجھن کی
سلجھن بھی دشوار ہے
تاگا تاگا مجھے کون کھولے
مجھے رنگ در رنگ
اور حرف در حرف پرکھے
کہیں ایسی چشم فسوں کار ہے تو بتاؤ
اے مری بے دلی کے شکستہ کنارو
مرے خواب ہستی کے
موہوم ریشم کو
کس دھوپ کی
زرد دیمک نے چاٹا
کون سی خواہشوں کی
ہری ٹہنیوں پر
برہنہ ہواؤں کے پنجے پڑے
کس طلب کی کتھا
ان کے راستوں میں کہیں راہ گم کردہ رہرو کی صورت
خجل اور کم رخت رہنے لگی
میں اداسی کی گہری سہیلی ہوں
تیکھی پہیلی ہوں
اور میری الجھن کی سلجھن بھی دشوار ہے
میں یگوں سے کسی درد کی خوش ہنر انگلیوں کی
تنک تاب پوروں سے
اپنا پتا پوچھتی ہوں
بہت کار عقدہ کشائی کٹھن ہے
مگر میں کسی رنج برسر
خیال جنوں پیشہ کی
آرزو کر رہی ہوں
یہ گنجل سلجھ جائے
اس دھن میں
دل کے نشیبوں کو
کیا کیا لہو کر رہی ہوں