شاعری

بہت لڑتے ہو تم

بہت لڑتے ہو تم میں بھی تنک تابی میں خاصی فرد ہوں سو خوب جمتی ہے بہم اپنی میں مشکل راستوں کی گرد پلکوں پر سنبھالے آئی ہوں تم تک مرے نزدیک کے ہر منطقے میں تم بھی اپنے بالوں کی چاندی پہ اتراتے پراگندہ مزاجی میں گندھے اکھڑے ہوئے تاروں کی پگڈنڈی کے دل میں گھومتے ہو محبت کی بھڑک لفظوں ...

مزید پڑھیے

پناہ

فضا میں معلق یہ شاخیں ہیں یا جڑیں ہیں اس بوڑھے برگد کی جس پہ زمین تنگ ہو گئی ہے ہماری طرح جس کو وقت نے بے وقت کیا ہے زمین ایک حد تک پناہ گاہ ہوتی ہے آسمان کی پناہ کی حد کوئی نہیں یہ شاخیں جو دوسرا روپ ہیں جڑوں کا زمین سے پلٹ کر آسمان کی کھیتی میں اگنے کو بے تاب ہیں آسمان اور زمین کے ...

مزید پڑھیے

من تو شدم

جنگل میں اگر تم نے دیکھا ہو، ہرن ہوتے ہیں ہرن کی سنہری کھال اور ہندو لڑکیوں جیسی گہری آنکھیں ان دیکھے شکاری کا پھینکا ہوا ایک تیر مرتے ہوئے ہرن کی آنکھیں باتیں کرتی ہیں یہ جانے بغیر کہ شکاری کون تھا خیر شکار اور شکاری میں کوئی فرق نہیں ایک تیر چلاتا ہے دوسرے کی آنکھیں باتیں کرتی ...

مزید پڑھیے

صبح کا سویرا

صبح ہوئی اب اٹھو بچی نیند ابھی تک کیوں ہے کچی رات گئی وہ سورج نکلا وہ پھیلا گھر بھر میں اجالا اٹھو اٹھو منہ دھو ڈالو سستی ہو تو جا کے نہا لو آپا جاگیں بھیا جاگے اٹھتے ہی بستر سے بھاگے ابا اٹھے دادی اٹھیں اور نمازیں سب نے پڑھ لیں جاگ اٹھا ہے گھر بھر سارا یہ کیسا سونا ہے تمہارا صبح ...

مزید پڑھیے

ننھی منی چڑیاں

کوئی ان کو پکڑ نہیں سکتا اڑ کے جان اپنی یہ بچاتی ہیں بیٹھ کر الگنی پہ خوش ہو کر پر کھجاتی ہیں دم ہلاتی ہیں کام کے وقت کرتی ہیں یہ کام کام سے منہ نہیں چراتی ہیں بیٹھ کر کھونٹیوں پہ چھینکوں پر اپنی چوں چوں ہمیں سناتی ہیں کھیل کے وقت کھیلتی ہیں یہ مل کے اودھم بہت مچاتی ہیں جب بسیرے کا ...

مزید پڑھیے

اپنے بدن کا خوف

واقعات اور یادیں چھوٹی چھوٹی معمولی باتیں حواس کو روندنے لگتی ہیں دماغ کی بے شمار لچھیاں کھینچنے اور الجھنے لگتی ہیں اور شریانوں میں لہو پارہ بن کر چبھنے لگتا ہے

مزید پڑھیے

بے طلب

میں خواہشوں سے اپنا ہاتھ نہیں کھینچ سکتی جب تک خواہشیں مجھ سے نہ کھینچ جائیں یہ کافی ہے اور میرے لیے سب میری گردن پر میرے محبوب کا چہرہ سجا دو یا میری روح کو آزاد ہو جانے دو یہ بھی کافی ہے اور میرے لیے بہت ہے میں اس کی خواہش سے کچھ کم ہوں یا ذرا زیادہ ظاہر ہے گرد مجھے چھپا لیتی ...

مزید پڑھیے

خوشبو

خوشبو کے دن اور رنگوں کی کچھ راتیں رہ جاتی ہیں بھیگے بھیگے سے لمحوں کی برساتیں رہ جاتی ہیں تھم تھم جاتی ہے سرگوشی وقت گزرتا رہتا ہے کان کی بالی میں لہراتی کچھ باتیں رہ جاتی ہیں رات گزر جاتی ہے لیکن خواب رکے رہتے ہیں وہیں جاگتی آنکھوں میں اور خواہش کی سوغاتیں رہ جاتی ہیں غازیہؔ ...

مزید پڑھیے

آغاز بہار کا پہلا دن

مصائب الجھنیں بے تابیاں بے خوابیاں لکھوں مگر کھیتوں کی شادابی گلوں کی رونقیں کلیوں کا دھیما حسن روشن پھول انگارے فلک پر جگمگاتے ماہ و انجم کا سجیلا پن صبا کی شوخیاں نرمی ہوا کی گل کا پیراہن جو منظر مجھ سے باہر ہیں کبھی لگتا ہے شاید مجھ سے بہتر ہیں کبھی لگتا ہے مجھ کو کہ وہ بے ...

مزید پڑھیے

دکھ کی پرچھائیں

بے حسی کی دبیز چادریں سارے احساس سو گئے اور میں اپنی سوچوں سے ہو کے بے پردا اپنی آنکھوں کی ساری پرچھائیوں کو دیکھتی ہوں دھندلی پرچھائیوں کو دیکھتی ہوں میری تقدیر کی ندی پہ چلی دکھ کی لہروں پہ ناؤ آنکھوں کی کب کنارے پہ جا کے پہنچے گی دکھ کی لہروں پہ ناؤ آنکھوں کی

مزید پڑھیے
صفحہ 493 سے 960