رستا درد

ایک طرف برسوں پرانا خون کا قرض ہے
وہیں دوسری اور ایک مظلوم عورت
کا رستا درد ہے
وہ عورت
میری ماں ہو سکتی ہے یا پڑوسن
یا کوئی دور وطن کی اجنبی
پر خون کے رشتے سے بڑا
یہ درد ہے میرے لئے
کیوں کہ
ہر پل کچھ رستا ہے اس رشتے کے لئے
ساری زندگی کارپیٹ بنی رہی یہ عورت
آج بھی ذمہ داریوں کے بوجھ سے
زیادہ کچھ نہیں تمہارے لئے
پر بھول رہے ہو تم بھی
اسی کارپیٹ پر دھر دئے جاؤ گے
کسی دن اپیچھت پوٹلی کی طرح
تب کے لئے رستا رہے گا یہ درد