سوچ رہی ہوں
گونگی ہوتی ہوئی خاموشی سناٹے کی دہلیز پکڑ کر جانے کب تک جمی رہے گی میں وہ لفظ ہی بھول آئی ہوں رستے میں ہی گرا آئی ہوں جو تم سے ملنے آئے تھے جانتے ہو تم لفظ مری دھڑکن تھے اس پل سینے میں اک حشر بپا تھا سرخی کا پیراہن اوڑھے میرے سجیلے لفظ وہ سارے سپنوں کے رنگین محل میں رہنے کو بے تاب ...