شاعری

سوچ رہی ہوں

گونگی ہوتی ہوئی خاموشی سناٹے کی دہلیز پکڑ کر جانے کب تک جمی رہے گی میں وہ لفظ ہی بھول آئی ہوں رستے میں ہی گرا آئی ہوں جو تم سے ملنے آئے تھے جانتے ہو تم لفظ مری دھڑکن تھے اس پل سینے میں اک حشر بپا تھا سرخی کا پیراہن اوڑھے میرے سجیلے لفظ وہ سارے سپنوں کے رنگین محل میں رہنے کو بے تاب ...

مزید پڑھیے

وحشت

یہی دل تھا کبھی جو خون کی ترسیل پر مامور رہتا تھا دھڑکتا تو نوید زندگی لاتا اب ایسا ہے رگوں کا جال تو ویسے ہی پھیلا ہے مرے اندر مگر دل خون کے بدلے فراوانی سے بہتے درد کی گردش سے جو بے حال رہتا ہے تو دھڑکن ٹیس بن کر سینے میں اک وحشیانہ رقص کرتی ہے انہی دو انتہاؤں پر کھڑا یہ جسم و جاں ...

مزید پڑھیے

ہوا کے دوش پہ

وہ ڈھیر کانچ کا تھا کسی نے راکھ سمجھ کر جسے ٹٹولا تھا عجیب رنگ تھے رقصاں نگاہ کے آگے ہتھیلی رسنے لگی تو گمان سا گزرا کہیں یہ خون کے چھینٹوں کی سرخیاں تو نہیں مگر وہ درد کہاں ہے جو سکھ نگلتا ہے جو جسم و جان میں اترا ہے اب تھکن بن کر کہیں سے آہ و بکا کی صدائیں آتی ہیں یہ نیم اندھیرا ...

مزید پڑھیے

وقت

تمہارے اور میرے فیصلوں کے درمیاں یہ وقت ہے جس نے طنابیں کھینچ کر اپنی ہماری بے بسی دو چند کر دی ہے تمہارے پاس کم ہے اور میرے پاس بھی اتنا نہیں پھر اس پہ اتنی الجھنیں تحفے میں دی ہیں زندگی نے جنہیں سلجھاتے سلجھاتے تمہارے پاس آتے راستے دھندلانے لگ جائیں

مزید پڑھیے

جہان زادی کا اسٹیٹس

زمانہ کتنا بدل گیا ہے مقام رشتوں کا مٹ رہا ہے کہیں محبت کا روپ دھارے کہیں سلگتے یہ نفرتوں سے کہیں پہ آنکھوں میں ریت بن کر چبھن کی صورت رلا رہے ہیں کہیں یہ برقی پیام بن کر ہزار میلوں پہ چھائی دوری کے بادلوں کو ہٹا رہے ہیں دلوں کی دھڑکن بڑھا رہے ہیں روایتوں کو بدل رہے ہیں وفا کے ...

مزید پڑھیے

نیا مکان

چلو مکاں کی مصیبت سے بھی نجات ملی یہ خواب گہ، یہ کچن، غسل خانہ اور بیٹھک میں سوچتا ہوں مجھے سوچنے کو بات ملی ہوئی ہیں صرف مشقت کی کوششیں ان تھک نظر ربا در و دیوار کے بنانے میں یہ قمقمے یہ تمدن کی اختراع جدید بڑھی ضلالت ادراک تیرگی نہ مٹی یہ سیڑھیاں ہیں نگاہوں کے پیچ کی مظہر حیات ...

مزید پڑھیے

کم نگاہی

مر کے دیکھتا ہوں میں زندگی کی رزم گاہ سرد اور بجھی ہوئی جیسے ایک بیسوا رات کی تھکی ہوئی ہو پلنگ پر اداس نیم جاں پڑی ہوئی کوئی کشمکش نہیں کوئی جستجو نہیں اب تو دور دور تک حشر ہاؤ ہو نہیں چار سو نگاہ میں سوکھے سوکھے جسم میں موت کی جبیں پہ ہیں یا کریہہ تیوریاں چار سو نگاہ میں ہڈیوں کے ...

مزید پڑھیے

مگرمچھ کے آنسو

سنتے ہیں یاد مصیبت میں خدا آتا ہے آسرا اک یہی مجبور کی تقدیر میں رہ جاتا ہے ''کھول دو بند کلیساؤں کے در کھول بھی دو مانا مانوس نہیں ہاتھ دعاؤں سے دعائیں مانگیں مملکت پر کہیں خورشید نہ ہو جائے غروب حکم دے دو کہ سبھی اپنے خداؤں سے دعائیں مانگیں'' جی پہ بن جائے تو ذلت بھی اٹھا لیتے ...

مزید پڑھیے

کندن

کندن ساٹھ برس کا بوڑھا چھوٹے قدم اٹھاتا ہے صبح سویرے دھیرے دھیرے پل پر بیٹھنے آتا ہے دائیں بائیں اس کی نگاہیں دوڑتی ہیں کچھ ڈھونڈھتی ہیں تیس برس پہلے کا زمانہ آنکھوں میں پھر جاتا ہے بیتے دنوں کا تصور دل کے دکھ کو اور بڑھاتا ہے دنیا اک دن اس کی تھی یہ دنیا آخر کس کی ہوئی کندن چلتے ...

مزید پڑھیے

آس

پوسٹ مین کی سائیکل کی گھنٹی میرے دل کی دھڑکنیں بڑھا دیتی ہے خط ہاتھ میں آتے ہی ان کی یادیں بھی ساتھ چلتی آتی ہے ایک مدہوش کرنے والی لفافہ کی خوشبو ذہن پر چھا جاتی ہے سیاہی کی لکھاوٹ اس کی انگلیوں کی چھون یاد دلاتی ہے کاغذ کا کھردرا احساس دل کو گدگداتا ہے پتر پر لکھا مضمون ٹھنڈ کی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 491 سے 960