کس کی بد گمانی پر
حسن کو بد گمان رہنے دے
راز دل راز دان رہنے دے
نگۂ نیم کش کی عمر دراز
نوبت اک درمیان رہنے دے
حسرت عنفوان راز و نیاز
روح پر حکمران رہنے دے
عشق کی کائنات ہے حرماں
آرزو کا زیان رہنے دے
نقش نا کندہ کے تصور کا
یہ مٹا سا نشان رہنے دے
قسمت عشق تو ہے قسمت عشق
بارے منت کی شان رہنے دے
نا سزا واریوں کا کیا کہنا
بس انہیں مہربان رہنے دے
ہاں مجھے خود ہے اعتراف شکست
اب مرا امتحان رہنے دے
وعدۂ شوق تھا فریب آمیز
بس اسے رائیگان رہنے دے
دوست کس کس کا تھا دل بے دوست
یہ زبوں داستان رہنے دے
ہدئیے کیا کیا دئے تھے کس کس کو
شرح یہ قصہ خوان رہنے دے
میرے تحت الشعور کی دنیا
تہہ نشیں اور نہان رہنے دے
رہی کن گل رخوں سے شیفتگی
اب یہ شیوہ بیان رہنے دے
بھول پھولوں کی پیار شاہیں کا
سوانگ یہ گل فشان رہنے دے
ہے جہاں گرد اور حجاز پرست
لاابالی جوان رہنے دے
غایت عاشقی ہوس کاری
ہے بجا میری جان رہنے دے
شوق تھا شوق تا غبار گماں
مٹ چکا وہ جہان رہنے دے