روح کا اصلی وجود

گرد سے اٹی ہوئی
خون سے بھری ہوئی
زخم خوردہ اور شکستہ روح کو
اپنے بستے میں چھپائے
کب تلک تم رکھ سکو گے
خواب آور گولیوں سے
طاقت رفتار لے کر
ہوش سے آنکھیں بچا کر
کب تلک چلتے رہو گے
ایک دن تو موڑ ایسا آئے گا جب
اپنے بستے میں چھپی یہ نا مکمل روح
خون اپنا وجود
تم سے واپس مانگ لے گی
اس گھڑی تم کیا کرو گے
کس طرح ڈھونڈ کے لاؤ گے تم
روح کا اصلی وجود