تم آ گئے ہو
کل تلک تو کانچ کے برتن سی چکنا چور دنیا میرے چاروں طرف بکھری پڑی تھی مگر دور سے آواز دیتا ہے کوئی مجھے کانچ کے ٹکڑے اچانک جڑ گئے ہیں تم آ گئے ہو
کل تلک تو کانچ کے برتن سی چکنا چور دنیا میرے چاروں طرف بکھری پڑی تھی مگر دور سے آواز دیتا ہے کوئی مجھے کانچ کے ٹکڑے اچانک جڑ گئے ہیں تم آ گئے ہو
وفا کا ذوق دیا ہے تری محبت نے دلوں کو فتح کیا جذبۂ شرافت نے تری حیا سے تقدس ہے آدمیت کا کیا ہے تجھ کو سرافراز جذب غیرت نے چمن میں جس سے ہے اذن شگفت غنچہ و گل گداز قلب وہ بخشا ہے تجھ کو قدرت نے بہت ہی کم ہیں وہ شائستۂ نظر جن کو خراج شوق دیا زندگی کی عظمت نے ہر ایک بیکس و مظلوم کی ...
غریبی کو مٹا دیں گے غریبی کو مٹا دیں گے ہم اپنے بازوؤں کا زور دنیا کو دکھائیں گے ہوس کے آسماں بر دوش محلوں کو گرا دیں گے در انسانیت پر ظالموں کے سر جھکا دیں گے غریبی کو مٹا دیں گے غریبی کو مٹا دیں گے کسی کے عیش سے بے واسطہ رنجش نہیں ہم کو کسی کے سیم و زر سے بے سبب کاوش نہیں ہم ...
تری نگاہ کہ ہے پاسبان مستقبل سنا رہی ہے ہمیں داستان مستقبل تری حیات کہ ہے ترجمان مستقبل لئے ہے کیف و نشاط جہان مستقبل ہے سر بلند کبھی سے نشان مستقبل زمیں کو تو نے کیا آسمان مستقبل تجھی سے غیرت کشمیر ہے دیار وطن تجھی سے رشک ارم گلستان مستقبل ترے یقیں نے کیا ہے وہ انقلاب عظیم کہ ...
صدر جمہوریۂ ہند یقیناً آپ فخرالدین بھی ناز امم بھی ہیں علی احمد بھی ہیں آگاہ آداب حرم بھی ہیں وقار ہوش بھی عظمت فروز علم و دانش بھی گرامی قدر بھی ذی تمکنت بھی محترم بھی ہیں تب و تاب چمن بھی ذوق تمکین بہاراں بھی جہان شوق کا افسانۂ جاہ و حشم بھی ہیں کرشمہ ہے خدا کا آپ کے اوصاف ...
یہ دھرتی یہ جیون ساگر یہ سنسار ہمارا ہے امرت بادل بن کے اٹھے ہیں پربت سے ٹکرائیں گے کھیتوں کی ہریالی بن کر چھب اپنی دکھلائیں گے دنیا کا دکھ سکھ اپنا کر دنیا پر چھا جائیں گے ذرہ ذرہ اس دنیا کا آج گگن کا تارا ہے یہ دھرتی یہ جیون ساگر یہ سنسار ہمارا ہے دکھ بندھن کٹ جائیں گے سکھ کا ...
جھکے گا خاک پہ یہ قصر آسماں اک دن ہمارے زیر قدم ہوگی کہکشاں اک دن بڑھے گا جانب منزل یہ کارواں اک دن فضائے ارض و سما ہوگی ہم عناں اک دن حیات خضر ملے گی ہر ایک ذرے کو ہمارا نقش قدم ہوگا جاوداں اک دن ابھی جو خرمن اہل وفا پہ گرتی ہیں چراغ راہ بنیں گی وہ بجلیاں اک دن بہ ایں یقین و بہ ایں ...
کہاں سے آ گئیں رنگینیاں تمنا میں کہ پھر خیال نے لالے کھلائے صحرا میں تری نگاہ سے میری نظر میں مستی ہے ترے جمال میں موجیں ہیں اس کے دریا میں یہ ہو رہا ہے گماں تیرے جسم خوبی پر بھٹک کے حور چلی آئی ہو نہ دنیا میں نظر سے کچلے ہوئے موتیوں کی جھلکاریں لبوں پہ رنگ جو ملتا ہے جام و ...
آج بھی تیرے لئے سوزش غم کم تو نہیں زخم دل پر ترے ہمدم کوئی مرہم تو نہیں تو جو پھولوں کی طرح پھول کر اتراتا ہے دیکھنا یار ترے جام میں شبنم تو نہیں ہند کی یہ شب مہتاب بہت خوب سہی قلب انجم کا مگر درد ابھی کم تو نہیں چاندنی رات کے وعدے بھی وفا ہوتے ہیں اے غم دل یہ سبب لائق ماتم تو ...
کہاں سے آ گئیں رنگینیاں تمنا میں کہ پھر خیال نے لالے کھلائے صحرا میں تری نگاہ سے میری نظر میں مستی ہے ترے جمال سے موجیں ہیں دل کے دریا میں یہ ہو رہا ہے گماں تیرے جسم خوبی پر بھٹک کے حور چلی آئی ہو نہ دنیا میں نظر میں کچلے ہوئے موتیوں کی جھلکاریں لبوں پہ رنگ جو ملتا ہے جام و مینا ...