شاعری

آگے مت سوچو

سنتے ہو اک بار وہاں پھر ہو آؤ ایک بار پھر اس کی چوکھٹ پر جاؤ دروازے پر دھیرے دھیرے دستک دو جب وہ سامنے آئے تو پرنام کرو ''میں کچھ بھول گیا ہوں شاید'' اس سے کہو کیا بھولا ہوں یاد نہیں آتا کہہ دو اس سے پوچھو ''کیا تم بتلا سکتی ہو'' وہ ہنس دے تو کہہ دو جو کہنا چاہو اور خفا ہو جائے تو ....آگے ...

مزید پڑھیے

قرب و بعد

رات کو جب بھی آنکھ کھلی ہے مجھ کو یوں محسوس ہوا ہے جیسے کوئی میرے سرہانے کھڑا ہوا ہے دو آنکھیں میٹھی نظروں سے میرا چہرا چوم رہی ہیں دو ہاتھوں کی نرمی میرے رخساروں پر پھیل گئی ہے دو ہونٹوں کی گرمی میری پیشانی میں جذب ہوئی ہے زلفوں کی لہراتی خوشبو سانسوں میں رس بس سی گئی ہے کمرے کی ...

مزید پڑھیے

نیند

رات اک گھر جل گیا! گھر جلا تو آگ میں گھر کے سب افراد بھی جل کے کوئلہ ہو گئے آگ ٹھنڈی پڑ گئی تو دیکھنے والوں نے دیکھا گھر کے اک حصے میں جو بچ گیا تھا آگ سے ایک ننھی منی بچی بھینچ کر چھاتی سے گڑیا سو رہی تھی بے خبر!

مزید پڑھیے

ڈپریشن

کوئی حادثہ کوئی سانحہ کوئی بہت ہی بری خبر ابھی کہیں سے آئے گی! ایسی جان لیوا فکروں میں سارا دن ڈوبا رہتا ہوں رات کو سونے سے پہلے اپنے آپ سے کہتا ہوں بھائی مرے دن خیر سے گزرا گھر میں سب آرام سے ہیں کل کی فکریں کل کے لیے اٹھا رکھو ممکن ہو تو اپنے آپ کو موت کی نیند سلا رکھو!!

مزید پڑھیے

مجھے ان جزیروں میں لے جاؤ

مجھے ان جزیروں میں لے جاؤ جو کانچ جیسے چمکتے ہوئے پانیوں میں گھرے ہیں جہاں لڑکیاں ناریل کے درختوں کے پتوں سے اپنے بدن کے خطرناک حصے چھپاتی ہیں پھولوں کے گجرے پہن کر بڑی شان سے مسکراتی ہیں بچے جہاں ریت کے گھر بناتے ہیں اور ساحلوں کی چمکتی ہوئی ریت پر لوگ سن باتھ لیتے ہیں پانی میں ...

مزید پڑھیے

اکیلی عورت اور ٹی وی

شوہر کی موت کے بعد گھر میں وہ اکیلی رہ گئی تھی! وقت کاٹے نہ کٹتا تھا چھوٹا سا گھر بہت بڑا لگتا تھا! گزرا ہوا اچھا سمے یاد آتا تھا تنہائی کا احساس اندر ہی اندر کھائے جاتا تھا! گھبرا کے اس نے ٹی وی پال لیا ہنستے گاتے ٹی وی نے اسے سنبھال لیا!!

مزید پڑھیے

بدن کا فیصلہ

یہ بدن جسے میں بہترین غذائیں کھلاتا رہا پانی کی جگہ شراب پلاتا رہا یہی بدن مجھ سے کہتا ہے جاؤ دفع ہو جاؤ جنت کے مزے اڑاؤ کہ دوزخ کے عذاب اٹھاؤ میری بلا سے میں تو اب قبر میں سو رہوں گا مٹی ہوں مٹی کا ہو رہوں گا!!

مزید پڑھیے

ایک بچہ

آج سے پہلے میرا گھر سویا سویا رہتا تھا سورج روز نکلتا تھا روز سویرا ہوتا تھا آنگن میں دیواروں پر دھوپ چمکتی رہتی تھی گھر کی اک اک کھڑکی میں نور کی ندی بہتی تھی سارا سارا دن چھت پر کاگے شور مچاتے تھے نل نیچے پانی پینے روز کبوتر آتے تھے دروازے پر دستک کی مہریں چمکا کرتی تھیں سرد ...

مزید پڑھیے

اب جدھر بھی جاتے ہیں

پہلے ایسا ہوتا تھا بھانت بھانت کے بندر شہر کی فصیلوں پر محفلیں جماتے تھے گھر میں کود آتے تھے ہاتھ میں سے بچوں کے روٹی نوچ جاتے تھے اب تو وہ مداری بھی خالی ہاتھ آتا ہے بھیک مانگ کر گھر گھر گھر کو لوٹ جاتا ہے اب گھروں میں چڑیوں کا شور کیوں نہیں ہوتا رات کو کوئی الو پیڑ پر نہیں ...

مزید پڑھیے

ایسا ہو

ایک چھوٹا سا لکڑی کا گھر اور آنگن میں پھرتی ہوئی مرغیاں بیچ میں اک کنواں اور چاروں طرف کھیت ہی کھیت کھیتوں میں اک راستہ ہو اور رستے پہ اک پیڑ کی چھاؤں میں وقت سستا رہا ہو!

مزید پڑھیے
صفحہ 446 سے 960