شاعری

قیدن چڑیا

مجھے چھوڑ دے اب تو اے چھوٹے لڑکے کیا قید تو نے ہے کیوں مجھ کو بچے میں مر جاؤں گی ہائے پنجرے میں گھٹ کے مجھے چھوڑ دوں گی دعا تجھ کو چھٹ کے مرے ننھے بچے درختوں پہ بھوکے مجھے یاد کر کر کے وہ ہوں گے روتے ذرا تیلیاں پنجرے کی توڑ دے تو میں بچوں کی ماں ہوں مجھے چھوڑ دے تو میں اڑ جاؤں پھر سے ...

مزید پڑھیے

تارے

ذرا ننھے تارے مرے پاس آ جا تو اپنی چمک آ کے مجھ کو دکھا جا ادھر آ تجھے ہاتھ میں لے کے دیکھوں یہ کیا بات ہے تو چمکتا جو ہے یوں تو ننھا سا جگنو ہے اللہ میاں کا تجھے اپنی ٹوپی میں رکھ لوں ادھر آ مری ٹوپی میں آ کے جھم جھم چمکنا مرے سر پہ تو رات کو آ کے ہنسنا چمکتے ہو ہنستے ہو تم اتنے ...

مزید پڑھیے

بلی

آ جا میری پیاری پوسی دم کو ہلاتی خر خر کرتی چوہے چڑیوں کو مت کھاؤ دیکھو ان کو تم نہ ستاؤ آؤ تمہیں کچھ دیتے ہیں ہم میٹھا میٹھا دودھ پیو تم تیرے گلے میں چھن چھن کرتے گھنگرو میں پہناؤں گا لا کے میرے بچھونے پر اب آ تو پاس مرے اب یاں سو جا تو رکھ لے سر تکیے پر میرے سو جا اب تو خر خر کر ...

مزید پڑھیے

گیند

چلی آ لڑھکتی لڑھکتی چلی آ مری گیند تو بیٹ کے پاس آ جا میں ہوں دوڑا آتا پکڑنے کو تیرے ٹھہر جا بس اب ہاتھ آ جا تو میرے لڑھکتی ہے کیا اب کہاں چھوڑتا ہوں تجھے آدھے رستے سے میں موڑتا ہوں نہ پڑنا کہیں گارے کیچڑ میں جا کر کہ ہو جائے گی اس میں گندی سراسر نہیں اچھے ہوتے ہیں میلے کھلونے مرے ...

مزید پڑھیے

تاج گیت

کتاب اماں نے کیا مزے کی لکھی جسے پڑھ کے ہوتی ہے ہم کو خوشی کریں گے اگر یاد ہم تاج گیت تو ہم سارے بچوں میں جاویں گے جیت پھر ابا کو اپنے سنائیں گے ہم اور انعام ہوگا نئی اک کتاب جو اس سے بہت اچھی ہوگی جناب

مزید پڑھیے

سنہری پنجرا

خوب ہے یہ چاندی کا پنجرا اس میں تو آ منی سی چڑیا پنجرے میں ہے سونے کی پیالی اس میں تو کھانا دانہ پانی پہلے کھلاؤں گا تجھ کو دانہ کھاؤں گا پھر میں اپنا کھانا ٹھنڈا پانی دوں گا تجھ کو ٹھنڈی ہوا میں رکھوں گا تجھ کو بلی کے پنجوں سے بچا کر تجھ کو ٹانگوں گا کھونٹی پر چڑیا سن کے یہ باتیں ...

مزید پڑھیے

خدا سب کچھ دیکھتا ہے

خدا دیکھتا ہے مرے کام کو وہ سنتا ہے کہتا ہوں میں بات جو خدا ہر جگہ ہے مجھے دیکھتا مرے دل کی باتیں ہے وہ جانتا میں ہوں کھیل میں یا مدرسے میں ہوں رہوں اپنے گھر میں کہ رستے میں ہوں میں سوتا ہوا ہوں کہ ہوں جاگتا اکیلا مجھے وہ نہیں چھوڑتا وہ نزدیک میرے ہے رہتا سدا کوئی وقت ہو صبح یا شام ...

مزید پڑھیے

مرا ہونا نہ ہونا

مرا ہونا نہ ہونا منحصر ہے ایک نقطے پر وہ اک نقطہ جو دو حرفوں کو آپس میں ملا کر لفظ کی تشکیل کرتا ہے وہ اک نقطہ سمٹ جائے تو ہونے کا ہر اک امکاں نہ ہونے تک کا سارا فاصلہ پل بھر میں طے کر لے وہی نقطہ بکھر جائے تو ہر اک شے نہ ہونے کے قفس کی تیلیوں کو توڑ کر رکھ دے وہ ایک نقطہ مری آنکھوں ...

مزید پڑھیے

مری گلی کے غلیظ بچو

مری گلی کے غلیظ بچو تم اپنے میلے بدن کی ساری غلاظتوں کو ادھار سمجھو تمہاری آنکھیں اداسیوں سے بھری ہوئی ہیں ازل سے جیسے ڈری ہوئی ہیں تمہارے ہونٹوں پہ پیڑھیوں کی جمی ہوئی تہہ یہ کہہ رہی ہے حیات کی آب جو پس پشت بہہ رہی ہے تمہاری جیبیں منافقت سے اٹی ہوئی ہیں سبھی قمیصیں پھٹی ہوئی ...

مزید پڑھیے

بھول جاؤ مجھے

وہ تو یوں تھا کہ ہم اپنی اپنی ضرورت کی خاطر اپنے اپنے تقاضوں کو پورا کیا اپنے اپنے ارادوں کی تکمیل میں تیرہ و تار خواہش کی سنگلاخ راہوں پہ چلتے رہے پھر بھی راہوں میں کتنے شگوفے کھلے وہ تو یوں تھا کہ بڑھتے گئے سلسلے ورنہ یوں ہے کہ ہم اجنبی کل بھی تھے اجنبی اب بھی ہیں اب بھی یوں ہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 428 سے 960