قیدن چڑیا
مجھے چھوڑ دے اب تو اے چھوٹے لڑکے کیا قید تو نے ہے کیوں مجھ کو بچے میں مر جاؤں گی ہائے پنجرے میں گھٹ کے مجھے چھوڑ دوں گی دعا تجھ کو چھٹ کے مرے ننھے بچے درختوں پہ بھوکے مجھے یاد کر کر کے وہ ہوں گے روتے ذرا تیلیاں پنجرے کی توڑ دے تو میں بچوں کی ماں ہوں مجھے چھوڑ دے تو میں اڑ جاؤں پھر سے ...