شاعری

لفظوں کی دوکان میں

کالی بلی نے یہ بھی نہیں سوچا کہ میں کسی نیند میں خلل ہو رہی ہوں اس کو تو چوہوں سے مطلب ہے اور یہ کم بخت اپنی بلوں میں چھپے کیوں نہیں رہتے ازل سے یہی ہو رہا ہے گھڑی نے شاید بارہ بجا دیے ہیں یہ خدا کے آرام کا وقت ہے اور وہ شب بے دار اسے سونے نہیں دیتے اپنے برتے پر گناہ کرتے تو دعاؤں کی ...

مزید پڑھیے

نظم

خداوندا یہ کیسا جبر ہے میں نے تری رسی کو پکڑا ہی نہیں لیکن مجھے رسی نے جکڑا ہے مجھے کہتے ہیں تم آزاد ہو، اپنے لیے چن لو مگر بحر فنا کو جانے والے مجھ کو رکنے ہی نہیں دیتے میں رکنا چاہتا ہوں اس حسیں کے آن ملنے تک کہ جو رستے میں پیچھے رہ گئی تھی بیابان نمو کی بے کراں تاریکیوں میں ان ...

مزید پڑھیے

نظم

میں کتنے برسوں سے روز اپنے انا کی ایک پرت چھیلتا ہوں لہو لہو ان ہزار پرتوں کی تہہ میں پتھر ہوں جانتا ہوں یہ کہکشائیں یہ کائناتیں یہ روشنی کے سیاہ رستے گزر کے تیری تلاش میں ہیں کہ ہو نہ ہو تم وہاں کہیں میری منتظر ہو مجھے یقیں ہے کہ تم میری بات سن رہی ہو مگر نہیں ہو، کہ یہ جو تم ہو، ...

مزید پڑھیے

نظم

آفتاب آفت ہے آب کے لیے لیکن میرے دل کے چشموں میں آفتاب کھلتے ہیں میرے دل کے چشمے جو آسماں کے پیڑوں میں سایہ سایہ بہتے ہیں دھوپ ان کے پانی میں خواب کی طرح عریاں پربتوں کی جھولی میں بیٹھ کر نہاتی ہے اپنے پھول سے پاؤں پانیوں میں دھوتی ہے عرش کی نگاہوں میں یہ مگر خرابی ہے آسمان والوں ...

مزید پڑھیے

آنسوؤں سے بنے ہوئے ہم لوگ

ٹھیس لگ جائے تو ندی کی طرح ٹھیس لگ جائے تو ندی کی طرح پہروں بہتے ہیں اپنی آنکھوں میں کوئی چھیڑے تو کچھ نہیں کہتے صورت گل ہوا سے کیا شکوہ شام کی آنچ سے الجھنا کیا ہاں مگر سانس میں کوئی لرزش مدتوں ساتھ ساتھ رہتی ہے کس کو بتلائیں کس قدر نوحے رنج میں کس قدر بسے نغمے گیت ملنے کے اور ...

مزید پڑھیے

ناقابل اشاعت

میری یہ نظم شائع نہیں ہو سکتی یہ اشاعت کے قابل نہیں اس میں شامل ہے گہرا دکھ ہم سب کا مشترکہ دکھ جسے محسوس کیا جا سکتا ہے بیان نہیں احتجاج اور مذمت اس کے لفظوں میں نعرہ زن آنسو اور آہیں اس کا دریا سطح پہ بہہ جاتی ہے سسکی لیکن میں یہ نظم دیوار پر کیسے لکھوں کہ ہر دیوار ہوئی ہے بہری اب ...

مزید پڑھیے

اگر یہی ہے شاعری تو شاعری حرام ہے!

اگر یہی ہے شاعری تو شاعری حرام ہے! خرد بھی زیر دام ہے جنوں بھی زیر دام ہے ہوس کا نام عشق ہے طلب خودی کا نام ہے نظر اداس دل ملول روح تشنہ کام ہے مگر لبوں پہ نغمۂ حیات شاد کام ہے رہین عارض حسیں اسیر زلف مشکبو! نگاہ میں لیے ہوئے گھٹی گھٹی سی جستجو بھٹک رہے ہیں وادیٔ خزاں میں بہر رنگ ...

مزید پڑھیے

نعم البدل

اچھا تو یہ تیسری فوٹو والی سو میں آپ کو جچتی ہے آٹھ بجے۔۔۔ کل رات۔۔۔ یہیں لے آؤں گی میں شرمندہ ہوں وہ کلموہی لمبی کار میں کوہ مری کو چلی گئی بابو جی گر برا نہ مانیں تو اک بات کہوں میں حاضر ہوں

مزید پڑھیے

ٹیڑھا سوال

بیٹے ان کو یوں حیرت سے مت دیکھو یہ انکل ہیں۔۔۔ ان سے کوئی بات کرو ۔۔۔پرسوں والے ٹھگنے تھے کل جو آئے تھے دبلے تھے اور یہ موٹے تازے ہیں امی آخر۔۔۔ میرے کتنے انکل ہیں

مزید پڑھیے

خوں بہا

ادھر زندہ رہنے کے حق کے لئے اک ہجوم بلا خیز کا سیل مواج غیظ و غضب احتجاج اور ادھر انتظامی سہولت کے پیش نظر وارثوں کے لئے چیک تیار ہیں

مزید پڑھیے
صفحہ 427 سے 960