شاعری

ایک نئے لفظ کی تخلیق

زندگی لفظ ہے موت بھی لفظ ہے زندگی کی تراشی ہوئی اولیں صوت سے سرحد موت تک لفظ ہی لفظ ہیں سانس بھی لفظ ہے سانس لینے کی ہر اک ضرورت بھی لفظوں کی محتاج ہے آگ پانی ہوا خاک سب لفظ ہیں آنکھ چہرہ جبیں ہاتھ لب لفظ ہیں صبح و شام و شفق روز و شب لفظ ہیں وقت بھی لفظ ہے وقت کا ساز‌ و آہنگ بھی رنگ ...

مزید پڑھیے

میں نے اکثر خواب میں دیکھا

میں نے اکثر خواب میں دیکھا خوف تراشے کہساروں کی گود میں جیسے اک پتھریلی قبر بنی ہے قبر کی اجلی پیشانی پر دھندلے میلے شیشے کی تختی کے پیچھے تیرا نام لکھا ہے تیرا میرا نام کہ جس میں شیشے پتھر جیسی کوئی بات نہیں ہے تیری شہرت میں بھی میری رسوائی کا ہات نہیں ہے پھر بھی سوچو میں نے اکثر ...

مزید پڑھیے

میرے کمرے میں اتر آئی خموشی پھر سے

میرے کمرے میں اتر آئی خموشی پھر سے سایۂ‌ شام غریباں کی طرح شورش دیدۂ گریاں کی طرح موسم‌ کنج بیاباں کی طرح کتنا بے نطق ہے یادوں کا ہجوم جیسے ہونٹوں کی فضا یخ بستہ جیسے لفظوں کو گہن لگ جائے جیسے روٹھے ہوئے رستوں کے مسافر چپ چاپ جیسے مرقد کے سرہانے کوئی خاموش چراغ جیسے سنسان سے ...

مزید پڑھیے

چلو چھوڑو

چلو چھوڑو محبت جھوٹ ہے عہد وفا اک شغل ہے بے کار لوگوں کا طلب سوکھے ہوئے پتوں کا بے رونق جزیرہ ہے خلش دیمک زدہ اوراق پر بوسیدہ سطروں کا ذخیرہ ہے خمار وصل تپتی دھوپ کے سینے پہ اڑتے بادلوں کی رائیگاں بخشش! غبار‌ ہجر صحرا میں سرابوں سے اٹے موسم کا خمیازہ چلو چھوڑو کہ اب تک میں ...

مزید پڑھیے

خدشہ

یہ تیری جھیل سی آنکھوں میں رتجگوں کے بھنور یہ تیرے پھول سے چہرے پہ چاندنی کی پھوار یہ تیرے لب یہ دیار یمن کے سرخ عقیق یہ آئنے سی جبیں سجدہ گاہ لیل و نہار یہ بے نیاز گھنے جنگلوں سے بال ترے یہ پھولتی ہوئی سرسوں کا عکس گالوں پر یہ دھڑکنوں کی زباں بولتے ہوئے آبرو کمند ڈال رہے ہیں مرے ...

مزید پڑھیے

بہت دنوں بعد

بہت دنوں بعد تیرے خط کے اداس لفظوں نے تیری چاہت کے ذائقوں کی تمام خوشبو مری رگوں میں انڈیل دی ہے بہت دنوں بعد تیری باتیں تری ملاقات کی دھنک سے دہکتی راتیں اجاڑ آنکھوں کے پیاس پاتال کی تہوں میں وصال‌ وعدوں کی چند چنگاریوں کو سانسوں کی آنچ دے کر شریر شعلوں کی سرکشی کے تمام ...

مزید پڑھیے

میں سوچتا ہوں

فراق صبحوں کی بجھتی کرنیں وصال شاموں کی جلتی شمعیں زوال زرداب خال و خد سے اٹے زمانے یہ ہانپتی دھوپ کانپتی چاندنی سے چہرے ہیں میرے احساس کا اثاثہ بہار کے بے کنار موسم میں کھلنے والے تمام پھولوں سے پھوٹتے رنگ وحشتوں میں گھرے لبوں کے کھلے دریچوں سے بہنے والے حروف میری نشانیاں ...

مزید پڑھیے

اس سمت نہ جانا جان مری

اس سمت نہ جانا جان مری اس سمت کی ساری روشنیاں آنکھوں کو بجھا کر جلتی ہیں اس سمت کی اجلی مٹی میں ناگن آشائیں پلتی ہیں اس سمت کی صبحیں شام تلک ہونٹوں سے زہر اگلتی ہیں اس سمت نہ جانا جان مری اس سمت کے آنگن مقتل ہیں اس سمت دہکتی گلیوں میں زہریلی باس کا جادو ہے اس سمت مہکتی کلیوں ...

مزید پڑھیے

تمہیں کس نے کہا تھا

تمہیں کس نے کہا تھا دوپہر کے گرم سورج کی طرف دیکھو اور اتنی دیر تک دیکھو کہ بینائی پگھل جائے تمہیں کس نے کہا تھا آسماں سے ٹوٹتی اندھی الجھتی بجلیوں سے دوستی کر لو اور اتنی دوستی کر لو کہ گھر کا گھر ہی جل جائے تمہیں کس نے کہا تھا ایک انجانے سفر میں اجنبی رہرو کے ہمرا دور تک جاؤ اور ...

مزید پڑھیے

مری اداسی کا زرد موسم

مری اداسی کا زرد موسم اگر کسی دن مری بجھی آنکھ کے کنارے بھگو بھگو کر انا کے پاتال کی کسی تہہ میں ایک پل کو ٹھہر گیا تو مجھے یقیں ہے کہ ٹوٹتے دل میں خواہشوں کا کوئی چھناکا مرا بدن بھی نہ سن لے

مزید پڑھیے
صفحہ 429 سے 960