شاعری

اسم اعظم

میں مشہور ہو گیا ہوں اچانک اتنا زیادہ کہ وہ لوگ مجھے برا کہنے لگے ہیں جو کبھی مجھے ملے ہی نہیں جو مجھے جانتے ہی نہیں ماہرین نفسیات کہتے ہیں غیر حقیقی دنیا میں رہنے والے جذباتی لوگ خود کو ہیرو سمجھ کر جاگتی آنکھوں کے خوابوں میں اپنی مرضی کے ولن تخلیق کر لیتے ہیں اس غلط فہمی کا ...

مزید پڑھیے

حمد

اگر کوئی خدا ہے تو یقیناً پوری دنیا خدا کا ملک ہے اس ملک میں یقیناً سب اول درجے کے شہری ہیں خدا کی شان یہ ہے کہ وہ کسی میں تمیز نہیں کرتا بلا امتیاز ہر مذہب اور نظریے کے لوگوں کو پیدا کرتا ہے اور رزق دیتا ہے یقیناً خدا سیکولر ہے

مزید پڑھیے

ہم دونوں

آج ہم دونوں نے اتفاق سے ایک جیسے خواب دیکھے ہیں تمہارا خواب میں لے لیتا ہوں میرا خواب تم لے لو آج ہم نے کینٹین میں ساتھ مل کر دو پیالی چائے بنائی ہے تمہاری پیالی میں لے لیتا ہوں میری پیالی تم لے لو آج ہم نے ویلکم بک پورٹ سے ایک ہی کتاب کی دو کاپیاں خریدی ہیں تمہاری کتاب میں لے لیتا ...

مزید پڑھیے

یاد رہ جانے کی کوشش

لاپتا ہو جانے والوں کے نام کیوں نہ ہم بھی ایک نظم کہیں یا ان کے لیے کوئی گیت گائیں یا سو لفظوں کی کہانی لکھیں یا ان کے ساتھ بنائی ہوئی سیلفی فیس بک پر لگائیں تاکہ لاپتا ہو جانے کے بعد ہم دوسروں کو یاد رہیں

مزید پڑھیے

سیانی

وہ لڑکی ہر پہیلی بوجھ لیتی ہے اسے ہر معمہ حل کرنا آتا ہے ہر الجھن کو سلجھا لیتی ہے ہر مسئلے کا حل تلاش کر لیتی ہے ہر مشکل کو آسان بنا دیتی ہے ہر پریشانی دور کر دیتی ہے چاند کے اس پار کی خبر لے آتی ہے گہرے سمندر کی تہ میں جھانک لیتی ہے ہتھیلی پر نقش لکیریں پڑھ سکتی ہے چہرے پر ابھری ...

مزید پڑھیے

بریکنگ نیوز

کاش تم میرے بلیٹن کی انکر ہوتیں جو میں لکھتا وہ تم پڑتیں میں ساری ہیڈلائنز ملتوی کر دیتا طویل اور مختصر دورانیے کی تمام رپورٹس تلف کر ڈالتا سب کمرشیل ڈراپ کرنے کی ہدایت کرتا بریکنگ نیوز کی طرح تم ٹیلی پرومپٹر پر میری لکھی ہوئی ایک سطر بار بار پڑھتیں آئی‌ لو یو آئی‌ لو یو

مزید پڑھیے

توہم

ان کے لہجے میں وہ کچھ لوچ وہ جھنکار وہ رس ایک بے قصد ترنم کے سوا کچھ بھی نہ تھا کانپتے ہونٹوں میں الجھے ہوئے مبہم فقرے وہ بھی انداز تکلم کے سوا کچھ بھی نہ تھا سیکڑوں ٹیسیں نظر آتی تھیں جس میں مجھ کو وہ بھی اک سادہ تبسم کے سوا کچھ بھی نہ تھا سرد و تابندہ سی پیشانی وہ مچلے ہوئے اشک دن ...

مزید پڑھیے

میرے سوا

تو ہی بتلا کہ بھلا میرے سوا دنیا میں کون سمجھے گا ان آنکھوں کے تبسم کا گداز ان شرربار نگاہوں میں مگر میرے سوا دیکھ پائے گا بھلا کون کرم کے انداز جن فضاؤں میں بھٹکتے ہیں خیالات ترے ہے وہاں کون بجز میرے ترا ہم پرواز کون پڑھ پائے گا تحریر جبین شفاف کس کو مل سکتا ہے بے وجہ تغافل کا ...

مزید پڑھیے

میری شاعری اور نقاد

اے مرے شعر کے نقاد تجھے ہے یہ گلہ کہ نہیں ہے مرے احساس میں سرمستی و کیف کہ نہیں ہے مرے انفاس میں بوئے مئے جام چمن دہر کی تقدیر کہ میں ہوں وہ گھٹا جس نے سیکھا ہی نہیں ابر بہاری کا خرام رات تاریک ہے اور میں ہوں وہ اک شمع حزیں جس کے شعلے میں نہیں صبح درخشاں کا پیام میرے پھولوں میں ...

مزید پڑھیے

گل

اے گل رنگیں قبا اے غازۂ روئے بہار تو ہے خود اپنے جمال حسن کا آئینہ دار ہائے وہ تیرے تبسم کی ادا وقت سحر صبح کے تارے نے اپنی جان تک کر دی نثار شرم کے مارے گلابی ہے ادھر روئے شفق شبنم آگیں ہے ادھر پیشانیٔ صبح بہار یوں نگار مہر تیرے سامنے آیا تو کیا لڑکھڑاتا سر جھکائے زرد رو سیماب ...

مزید پڑھیے
صفحہ 424 سے 960