شاعری

چشم سوال!

ہاں اے غریب لڑکی تو بھیک مانگتی ہے چشم سوال تیری کچھ کہہ کے جھک گئی ہے تو بھیک مانگتی ہے شرم و حیا کی ماری اور سر سے لے کے پا تک ہے کپکپی سی طاری آنکھوں میں ہے نمی سی آئینہ سی جبیں ہے تجھ کو گداگری کی عادت ابھی نہیں ہے قسمت میں گیسوؤں کی آئینہ ہے نہ شانہ شاید تری نظر میں تاریک ہے ...

مزید پڑھیے

مطربہ

نغمۂ پر کیف لب پر دست نازک ساز پر مطربہ قربان ہو جاؤں میں اس انداز پر گاتے گاتے اک ادا کے ساتھ رک جانا ترا پھر اسی لے میں اسی انداز سے گانا ترا روٹھ کر من کر لجا کر مسکرا کر ناز سے کھینچ دی تصویر ہر جذبے کی سو انداز سے چتونوں سے گاہ برسا دیں بلا کی شوخیاں گاہ بھر لیں مست آنکھوں میں ...

مزید پڑھیے

موت

اپنی سوئی ہوئی دنیا کو جگا لوں تو چلوں اپنے غم خانے میں اک دھوم مچا لوں تو چلوں اور اک جام مئے تلخ چڑھا لوں تو چلوں ابھی چلتا ہوں ذرا خود کو سنبھالوں تو چلوں جانے کب پی تھی ابھی تک ہے مئے غم کا خمار دھندلا دھندلا نظر آتا ہے جہان بیدار آندھیاں چلتی ہیں، دنیا ہوئی جاتی ہے غبار آنکھ ...

مزید پڑھیے

آزار

کیا خبر تھی یہ ترے پھول سے بھی نازک ہونٹ زہر میں ڈوبیں گے کمھلائیں گے مرجھائیں گے کس کو معلوم تھا یہ حشر تری آنکھوں کا نور کے سوتے بھی تاریکی میں کھو جائیں گے تیری خاموش وفاؤں کا صلہ کیا ہوگا میرے ناکردہ گناہوں کی سزا کیا ہوگی قہقہے ہوں گے کہ اشکوں کی ترنم ریزی دل وحشی ترے جینے ...

مزید پڑھیے

فطرت ایک مفلس کی نظر میں

فطرت کے پجاری کچھ تو بتا کیا حسن ہے ان گلزاروں میں ہے کون سی رعنائی آخر ان پھولوں میں ان خاروں میں وہ خواہ سلگتے ہوں شب بھر وہ خواہ چمکتے ہوں شب بھر میں نے بھی تو دیکھا ہے اکثر کیا بات نئی ہے تاروں میں اس چاند کی ٹھنڈی کرنوں سے مجھ کو تو سکوں ہوتا ہی نہیں مجھ کو تو جنوں ہوتا ہی نہیں ...

مزید پڑھیے

بڑے ناز سے آج ابھرا ہے سورج

بڑے ناز سے آج ابھرا ہے سورج ہمالہ کے اونچے کلس جگمگائے پہاڑوں کے چشموں کو سونا بنایا نئے بل نئے زور ان کو سکھائے لباس زری آبشاروں نے پایا نشیبی زمینوں پہ چھینٹے اڑائے گھنے اونچے اونچے درختوں کا منظر یہ ہیں آج سب آب زر میں نہائے مگر ان درختوں کے سائے میں اے دل ہزاروں برس کے یہ ...

مزید پڑھیے

طوائف

اپنی فطرت کی بلندی پہ مجھے ناز ہے کب ہاں تری پست نگاہی سے گلہ ہے مجھ کو تو گرا دے گی مجھے اپنی نظر سے ورنہ تیرے قدموں پہ تو سجدہ بھی روا ہے مجھ کو تو نے ہر آن بدلتی ہوئی اس دنیا میں میری پائندگئ غم کو تو دیکھا ہوتا کلیاں بے زار ہیں شبنم کے تلون سے مگر تو نے اس دیدۂ پر نم کو تو دیکھا ...

مزید پڑھیے

خواب ہستی

وہ زمانے اور تھے جب تیرا غم سہتا تھا میں جب ترے ہونٹوں کی رنگینی سے کچھ کہتا تھا میں جب ترے بالوں سے گھنٹوں کھیلتا رہتا تھا میں بھول جا اے دوست وہ رنگیں زمانے بھول جا یک بیک بجلی سی چمکی اور نشیمن لٹ گیا تو نے برسوں جس کو سینچا تھا وہ گلشن لٹ گیا تو نے موتی جس میں ٹانکے تھے وہ دامن ...

مزید پڑھیے

فغان دہلی

جن کو دنیا میں کسی سے بھی سروکار نہ تھا اہل و نا اہل سے کچھ خلط انہیں زنہار نہ تھا ان کی خلوت سے کوئی واقف و ہمراز نہ تھا آدمی کیا ہے فرشتے کا بھی واں بار نہ تھا وہ گلی کوچوں میں پھرتے ہیں پریشاں در در خاک بھی ملتی نہیں ان کو کہ ڈالیں سر پر عیش و عشرت کے سوا کچھ بھی نہ تھا جن کو ...

مزید پڑھیے

اے میری جاں مری آنکھوں کی روشنی سن تو

اے میری جاں مری آنکھوں کی روشنی سن تو جو زخم تو نے دئیے میں نے گل بنا ڈالے مہک رہے ہیں وہی شعر بن کے سانسوں میں ترے لبوں نے کئی گیت مجھ کو بخشے ہیں ترے ہی جسم کا جادو جگا ہے نظموں میں اے میری جاں مری غزلوں کی نغمگی سن تو تو آج بھی مرے ہم راہ ہم نوا ہے مری ترے ہی نام پے دل اب تلک دھڑکتا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 425 سے 960