شاعری

وقت

وہ چلتا رہا اس کرۂ ارض کی گیند پر ایک پاؤں رکھے دوسرا پاؤں اس کا خلا میں۔۔۔ گیند آگے بڑھاتے ہوئے توازن بھی قائم رہے۔۔۔ قیامت کو ٹالے ہوئے۔۔۔ وہ چلتا رہا زیست اور موت کے دائرے کھینچتا۔۔۔ ایک ہی سمت میں ایک رفتار سے کسی بازی گر ایک سرکس کے نٹ کی طرح چاند سورج ستاروں کے گولے کبھی ...

مزید پڑھیے

مٹی موسم اور رنگ

تم جو مٹی موسم اور رنگ پہچانتے ہو اپنے تلووں کو کھرچ کر دیکھو تو ان گنت صدیوں پرانی مٹی کا لمس پا کر خوش ہو گے تم جو مٹی ہو اور ذرا غور سے دیکھو تو تمہارے جسم کی بیرونی سطحوں پر بے شمار موسموں کے نشاں تمہیں صاف دکھائی دیں گے تم جو موسم تو نہیں ہو لیکن موسموں ہی سے جنمے ہو اور موسموں ...

مزید پڑھیے

نہ میرا نام میرا ہے

نہ میرا نام میرا ہے نہ اس کا روپ اس کا ہے نہ میری شخصیت میری نہ اس کا غم فقط اس کا یہاں جو ہے فقط سایہ ہے نقطہ ہے کوئی پھیلا ہوا سایہ کوئی سمٹا ہوا نقطہ نقابوں سے ملو لوگو نقابوں ہی کو جتنے نام دے سکتے ہو دے ڈالو نقابیں راستے منزل پھیلتے سائے دیواریں نقابیں نام چہرے شخصیت احساس کی ...

مزید پڑھیے

ریزہ ریزہ اکائیاں

ریزہ ریزہ اکائیاں وہ ایک شے جس سے اپنا رشتہ جڑا ہوا ہے وہ ایک شے جو ہماری اس کی ہر ایک کی ہڈیوں میں پنہاں لہو لہو میں بسی ہوئی ہے وہ شے ازل سے جو اپنی مجلس میں جی سکی ہے نہ ٹوٹتی ہے نہ مر رہی ہے وہ ایک شے بے پناہ سی ہے وہ تنگ و تاریک سی گپھائیں ابھی ابھی ایک لمحہ میں جو سونی سونی سی ہو ...

مزید پڑھیے

لیڈر

ہزاروں ہاتھوں کو اپنی جانب بلند پا کر وہ سمجھا سب اسے سلام کر رہے ہیں اور خراج عقیدت پیش کر رہے ہیں وہ خوش ہوا اور آگے بڑھ گیا ان بے شمار آنکھوں میں جھانکے بغیر جن میں گھور ترسکار بھرا تھا

مزید پڑھیے

قلم

اس کی گردن میری انگلیوں میں دبی تھی زبان باہر نکل آئی تھی پھر وہی ہوا جو ہونا تھا یعنی اس نے وہی اگلا جو میں چاہتا تھا

مزید پڑھیے

مجھ سے پوچھو

میں ہر دور میں جنما باتیں ہر یگ کی دہرا سکتا ہوں مجھ سے پوچھو میں سقراط کے ہونٹوں پر تھا زہر کا پیالہ میں نے پیا تھا اور سقراط مرا کب تھا رام نے کب بن باس لیا تھا وہ تو میں تھا چودہ سال تو میں نے کاٹے جنگل جنگل صحرا صحرا میں بھٹکا تھا اور لنکا تک تم کو تو معلوم نہیں ہے میں بھی نوح ...

مزید پڑھیے

احساس جرم

وہ پہلا شخص جس نے سوچ کے ٹھہرے ہوئے پانی میں پہلی کنکری پھینکی وہ پہلا فلسفی جس نے دریچے ذہن کے کھولے وہ شاعر جس نے پہلے شعر کی تخلیق کی ہوگی وہ سب کے سب اگر اس دور میں پھر جنم لے لیں تو ان کو ارتکاب جرم کا احساس پھر سے مار ڈالے گا

مزید پڑھیے

شاعر

اس نظم میں ترمیم کی کوئی گنجائش نہ تھی اس نظم کی تخلیق پر وہ بہت خوش تھا پھر بھی اشاعت کے لئے روانہ کرنے سے قبل اس نے نظم کے آخری مصرعے بدل ڈالے

مزید پڑھیے

آئینے کے سامنے

جانے کب سے آئینے کے سامنے بیٹھا ہوا محو حیرت ہوں کہ میرے چہرے پر اجنبیت کی یہ کیسی دھول آ کر جم گئی ہے

مزید پڑھیے
صفحہ 406 سے 960