شاعری

لہو میں اترتا ہوا موسم

ہواؤں کی برفاب سی انگلیاں کہہ رہی ہیں کہیں پاس ہی موسلا دھار بارش ہوئی ہے پہاڑوں کی دامن میں شاید گئی رات کو برف گرتی رہی ہے لہو میں اترتا ہوا دوسرا ایک لمحہ کہیں کچھ نہیں کچھ بھی بدلا نہیں ہے نہ موسم نہ گرمی ہوا کی فقط میرے احساس کی یخ بستگی چپکے چپکے میرے خون کو منجمد کر رہی ...

مزید پڑھیے

تردید

لفظ و معنی ہمیشہ سے میرے لئے اجنبی ہی رہے گفتگو میرے سر ایک الزام ہے میں چیخا ہوں رویا ہوں سرگوشیاں کی ہیں لیکن کسی سے کوئی گفتگو آج تک میں نے کی ہی نہیں

مزید پڑھیے

میں

کینوس پر مجھ کو چپکانے کے بعد میرا خاکہ جب ادھورا سا لگا اک نئی ریکھا میرے بائیں طرف کھینچی گئی میں مکمل ہو گیا اور پھر کینوس پر چھا گیا

مزید پڑھیے

انتظار کے بعد

انگلیوں میں دبی ہوئی سگریٹ کا ایک اور کش لینے سے پہلے میں نے بالکنی میں جھانکا وہ اب بھی نہیں آیا تھا کمرے میں چند ساعت کے لئے بے حس و حرکت کھڑا رہنا عجیب سا لگا اور تب میں نے سلگتی ہوئی سگریٹ کو جس کے ابھی کئی اور کش لئے جا سکتے تھے چھوٹی سی گول میز پر بری طرح سے مسل ڈالا دایاں ...

مزید پڑھیے

ہمیں انسان ہونے پر ندامت ہے

اے میرے رب کریم تو اشرف مخلوق کی دستار میرے مغرور سر سے نوچ دے اور ڈال دے ہم کو درندوں کی جماعت میں درندوں سے کبھی دنیا محبت اور شفقت کی توقع ہی نہیں رکھتی درندے اپنے قول و فعل پہ نادم نہیں ہوتے میں اپنے ہم نسب افراد کے قول و عمل سے ایک مدت سے پشیمانی میں رہتا ہوں مجھے اب اشرف ...

مزید پڑھیے

قید سے نجات

بارے آئی نجات کی باری کھل گیا عقدۂ گرفتاری ہم کو منصب ملا رہائی کا قید کو جائیداد بیکاری پاؤں کو چھوڑ بھاگے مار دو سر سر کو پشتارۂ گرانباری کوچ ٹھہرا مقام غربت سے اب وطن چلنے کی ہے تیاری رخصت اے دوستان زندانی الوداع اے غم گرفتاری الرحیل اے مشقت ہر زور الفراق اے ہجوم ناچاری دال ...

مزید پڑھیے

رقص

ان مہ و سال پر دسترس تو نہیں ایک لمحہ مگر جی رہے ہیں جو ہم دسترس میں بھی ہے اور بس میں بھی ہے کیوں نہ اس لمحۂ مہرباں کو محبت کے رنگوں میں گوندھیں کہانی بنا دیں اسے لمحۂ جاودانی بنا دیں کہ ہفتوں مہینوں پہ سالوں پہ طاری رہے مہلت زندگی سے نکل کے بھی اس کائنات تغیر میں جاری رہے اس کا ...

مزید پڑھیے

فہمائش

اس طرح کی فہمائش پھر کبھی نہیں ہوگی جس طرح مری ماں نے اپنے پیار کی چادر میرے سر پہ پھیلا کر اپنی گود میں بھر کر مجھ سے یہ کہا بیٹا تم نے جھوٹ بولا ہے اب اگر کبھی تم نے جھوٹ جو کہا مجھ سے تو میں روٹھ جاؤں گی پھر یہ گود یہ چادر ڈھونڈتے رہو گے تم میں نے اس کے بعد انورؔ جھوٹ تو نہیں ...

مزید پڑھیے

اجنبی

مضمحل خال و خد اجنبی سلوٹیں اور آنکھوں میں کچھ غیر مانوس سی الجھنیں آج صبح شیو کرتے ہوئے آئینے میں لگا میں نہیں ہوں کوئی اور ہے کوئی ایسا جسے میں نہیں جانتا

مزید پڑھیے

شام

سورج ڈوبا ہوا اندھیرا چڑیاں لینے لگیں بسیرا دن کا غائب ہوا اجالا تاریکی نے پردہ ڈالا جلنے لگے دیے گھر گھر میں گرجا مسجد اور مندر میں چرخ بریں پر چمکے تارے بے روغن ہیں روشن سارے جنگل سے گھر آئے گوالے ریوڑ اپنا اپنا سنبھالے جا پہنچے مزدور گھروں میں خوش خوش ہیں بیوی بچوں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 407 سے 960