شاعری

ایک نظم تمہارے نام

خزاں کی آہٹیں سن رہی ہو میرا جسم بجھ رہا ہے میری سانسوں کے پھول پتے مرجھا رہے ہیں میں وقت کی شاخ سے نہ جانے کب ٹوٹوں اور بکھر جاؤں میری کتابیں باتیں تصویریں کسی مائکرو فلم آڈیو یا ویڈیو کیسٹ پر یا کسی سیڈی میں محفوظ کر لو دیکھو اب بھی وقت ہے مگر وقت بہت کم ہے مجھے آخری بار چھو ...

مزید پڑھیے

جب میں اپنے اندر جھانک رہا تھا

جب میں اپنے اندر جھانک رہا تھا ایک کنواں تھا ڈول میں اس میں ڈال رہا تھا اک رسی سانسوں کی میرے اشکوں میں بھیگی اوپر نیچے آتی جاتی میں اس کو باہر وہ مجھ کو اندر کھینچ رہا تھا!!

مزید پڑھیے

صحرا صحرا

میں کیوں اک کمرے میں اک کرسی پر بیٹھا اپنے اندر چلتے چلتے تھک جاتا ہوں بچپن کی تصویریں یادیں گھٹنے میں جو چوٹ لگی تھی ہاتھ سے مٹی چھان کے بہتے خون کو کیسے روک لیا تھا وہ مکتب، کالج، دفتر، گھر اوبڑ کھابڑ رستے گرتے پڑتے کیا بتلاؤں کیسے اپنے گھر آیا ہوں کن بازاروں سے گزرا ہوں ہر ...

مزید پڑھیے

وقت کی ریل گاڑی

میں تجھے ڈھونڈنے نکلا گھر سے اور اپنا ہی پتہ بھول گیا اب نہ وہ تو ہے نہ میں نہ وہ راستہ ہے نہ پیڑ نہ وہ مندر ہے نہ کٹیا نہ چراغ اب نہ وہ تو ہے نہ میں اور وہ لوگ کہاں کیسے ہیں میں جنہیں بھول کے خوش ہوں جو مجھے یاد بھی آئیں کیسی دیوار ہے یہ نیم فراموشی کی آؤ دیوار گرائیں اور اگر یہ نہ ...

مزید پڑھیے

تجربہ گاہ

پتھر کے کمرے میں اس نے مٹی دھات نمک کو ایٹم اور اس سے بھی چھوٹے ذروں میں بانٹا اک اونچی میز پہ لیٹے وقت کو کلوروفارم سونگھا کر اس کے ایک ایک عضو کو کاٹا صدیوں برسوں اور مہینوں اک اک پل میں ایک تکونے چمٹے سے ایک سلائڈ پر میری کچھ سانسیں رکھیں شیشے کی نلکی سے میری گردن کو ہلایا دو ...

مزید پڑھیے

کہانیاں تمام شب

کہانیاں تمام شب تمام شب کہانیاں بجھے ہوئے چراغ نے اداس رات سے کہی اداس رات نے لکھیں تمام شب کہانیاں عروج کی بساط پر زوال کی کہانیاں کہانیاں تمام شب وہ جسم یا عذاب ہے وہ آنکھ یا کتاب ہے وہ ہونٹ یا گلاب ہے کتاب میں عذاب کی گلاب کی کہانیاں تمام شب کہانیاں کہانیاں تمام شب

مزید پڑھیے

میں یہ چاہتا ہوں

میں یہ چاہتا ہوں سمندر کے ساحل پہ بھیگی ہوئی ریت پر گال رکھے چند لمحے اسی طرح لیٹا رہوں مگر وقت کی بھیڑ میں مرے پاس اپنے لیے چند لمحے کہاں ہواؤں کے اس شور میں میرے گریبان کی دھجیاں اب کہاں سمندر کی آغوش میں اتنی لہریں ہیں ایک بھی لہر ایسی نہیں جو لے جائے مجھ کو بہا کر اک ایسے جزیرے ...

مزید پڑھیے

ہار جیت

میں نے ریس میں ایک گھوڑے پر ہزار روپے لگائے اور ہار گیا میں نے اپنے بیٹے کو وہ سب کچھ دیا۔۔۔ جو دے سکتا تھا ساری آسائشیں ترک کر کے لیکن بھول گیا اسے اپنی زندگی جینا ہے منظر بدلتے رہے پھر وہ آ گئی اور بھی لوگ آئے لیکن ہر شخص کے ساتھ اس کے اپنے سائے تھے اور جب سارے سائے رخصت ...

مزید پڑھیے

میرا دکھ

زمیں کی اک حد آسماں کی اک حد ہے مگر میرے دکھ کی کوئی حد نہیں ہے تم کہو گے زمیں چاند، سورج، ستارے یہ اک کہکشاں یہ سب اپنے ہی حجم میں دم بہ دم پھیلتے جا رہے ہیں یہ مانا مگر ان کے پھیلاؤ کی بھی کوئی آخری حد تو ہوگی میں یہ مانتا ہوں میں سب جانتا ہوں مگر میرے دکھ کی کوئی حد نہیں ہے۔۔۔!

مزید پڑھیے

کہی ان کہی

کچھ نہ کہنا بھی بہت کہنا ہے لفظ سینے میں ہی رک جائیں تو پھر بات کہاں ہوتی ہے لیکن الفاظ کے اطراف جو وہ ایک چشم نگراں ہوتی ہے اسی چشم نگراں کے صدقے آنکھ اگر خشک نظر آئے بہت روتی ہے زندگی خواب ہے تصویر تری سوتی ہے خواب تھا یا عالم بیداری تھا تیری تصویر تھی یا تو، تجھے کب دیکھا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 405 سے 960