ایک نظم تمہارے نام
خزاں کی آہٹیں سن رہی ہو میرا جسم بجھ رہا ہے میری سانسوں کے پھول پتے مرجھا رہے ہیں میں وقت کی شاخ سے نہ جانے کب ٹوٹوں اور بکھر جاؤں میری کتابیں باتیں تصویریں کسی مائکرو فلم آڈیو یا ویڈیو کیسٹ پر یا کسی سیڈی میں محفوظ کر لو دیکھو اب بھی وقت ہے مگر وقت بہت کم ہے مجھے آخری بار چھو ...