شاعری

بعد کے بعد

صحیفے اترنے سے پہلے اور نبیوں کے نزول کے بعد ہاتھ سے گرے ہوئے نوالوں کی طرح ہمیں کتوں کے آگے ڈال دیا جاتا رہا اس درمیان، آنکھوں کے نیچے ہم نے اپنے ہاتھ رکھے کہ وہ پاؤں پر نہ گر پڑیں اور کانچ کا اعتبار جاتا رہے مجھے آگ سے لکھ اور پانی سے اگا مٹی کے ساتھ انصاف میں خود کروں گی وہ تو ...

مزید پڑھیے

آپے رانجھا ہوئی

مغربی صحرا کے کنارے کندن کے پھول کھلنا شروع ہو گئے ہیں مشرقی صحرا کے بیچوں بیچ کھڑی سندری کی ناک کا لونگ مرجھا گیا ہے یہ کس تاریخ کے اخبار کی خبر ہے کوئی اشتہار ہے کیا دیواروں پہ لکیریں نہ ڈالو مٹاؤ گے تو تمہارے ہی ہاتھ کالے ہوں گے ہاں کھیل کھیل میں ہی دلالی سیکھ جاؤ گے کوئلوں کا ...

مزید پڑھیے

بازی جن کے ہاتھ رہی

جتنی دیر میں تم ایک آہٹ سے اترتے ہو اور سویر سے اپنی پلکیں اکٹھی کرتے ہو اتنی دیر میں ایک نظم بن چکی ہوتی ہے نظم جس کی آنکھوں سے لوبان کی خوشبو اور پلکوں سے نم ٹپکتا ہو اور وہ اپنی پہچان کے لئے خود اپنا وسیلہ بنے لیکن اگر اس کے بعد کے وسیلے زیادہ معتبر ٹھہریں تو حیرتیں افسوس اور ...

مزید پڑھیے

ایک موقع

خواب پرست! اجالا نہ کر میرا خون سفید اور رنگ فق ہے مجھے ناخن سے کرید، آ چل کے کہیں بیٹھیں بادشاہ کے حضور کھڑے کھڑے میں شل ہو گئی موم بتی کی طرح مجھے الگنی پر ٹانگ دے کہ میری دوہرگی کا بوجھ بان بٹنے والے پہ ہو تجھ پر نہ ہو خواب پرست! مجھے جگا تو لے پھر سو جانا کیونکہ نہیں جانا جس نے ...

مزید پڑھیے

ابھی وہ ایک دن کا بھی نہیں

ابھی وہ ایک دن کا بھی نہیں بھٹی سے مٹی کی نسل آگ کا نام پوچھتی اور گیلی چھاؤں تلے سو نہ نہ جاتی تو قیدی قیدی نہ جنتے کلیاں کھلتیں یا موسم رہا ہوتے یا کچھ اور ہوتا مگر یوں ہوا کہ اس کے میرے درمیاں اک پل ٹوٹ گیا اس کے میرے درمیاں ایک تتلی بھڑکتی پھرتی ہے اس کے میرے درمیاں اک راہ مسافر ...

مزید پڑھیے

ایک غیر اہم شام کا تذکرہ

تم سے بچھڑ کے زیست میں غم کا نزول رہ گیا بجھ گیا رنگ شاعری حرف فضول رہ گیا میرے لئے تو ہر نفس دکھ کا حصول رہ گیا دل کا جو اک گلاب تھا بن کے وہ دھول رہ گیا سرو و سمن چلے گئے صرف ببول رہ گیا شام کی زلف میں سجا یاد کا پھول رہ گیا مجھ کو اکیلا دیکھ کر چاند ملول رہ گیا

مزید پڑھیے

تقدیر

یہاں ہر ایک کی قسمت میں لکھا ہے مسلسل دائروں میں گھومتے رہنا سفر سارے سفر یوں ہی کٹے ہیں ہماری زندگی بھی ایک ہی مرکز کے چکر کاٹتے گزری وہ مرکز صرف تھوڑی سی محبت اور عزت اور اک نان جویں کی آرزو ہے کبھی جو مل نہ پائے ایک ایسے ہم سفر کی جستجو ہے میں برسوں سے کسی آندھی کے جھکڑ کی طرح اس ...

مزید پڑھیے

ہم راز

اب یہ صورت بھی تو دیکھو آ کر کس طرح عکس میں ملتا ہے سراپا میرا کیسے دل درد کی آواز بنا جاتا ہے کس طرح آئنہ ہم راز بنا جاتا ہے ریگ زاروں میں خیالوں کے میں تنہا اکثر تیرے ملبوس کی نکہت لے کر اپنی درماندہ محبت لے کر اسی آئینے کی ہمدرد رفاقت لے کر میں نے بھی جینے کی اک راہ نکالی آخر جو ...

مزید پڑھیے

وجود

بتاؤ کون گم ہوا، وہ ہم نفس گیا کہاں نقوش پا سنا رہے ہیں آج کس کی داستاں یہ رات، دن کے سلسلے جو ہیں ہمارے درمیاں ہماری کوئی ابتدا نہ ہے ہماری انتہا بس اک مہیب فاصلہ بس اک عجیب سلسلہ یہ جو بھی کچھ نظر میں ہے سفر میں ہے، سفر میں ہے جو رازدان وقت تھے انہیں کہیں سے لاؤ اب سنوار دیں جو ...

مزید پڑھیے

کڑوا سچ

میں فقط جسم نہیں ذہن بھی ہوں سب قصیدے لب و رخسار کے برحق لیکن چشم میگوں کے ادھر قامت شمشاد کے ساتھ زلف پیچاں سے پرے میری اک سوچ بھی ہے فکر بھی ہے میں کہ تخلیق بشر کا ہوں وسیلہ لیکن کیوں دکھائی نہیں دیتا ہے تمہیں میرا شعور میری دانش کے کئی رنگ ہیں تاریخ کے پاس میرے افکار مری رائے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 375 سے 960