شاعری

بے خوابی کی آکاس بیل پر کھلی خواہش

مجھ کو سونے دو صدیوں جیسی گہری لمبی نیند جس میں کوئی خواب نہ ہو مجھ کو سونے دو اس لڑکی کی نیند جو اپنی آنکھیں میری آنکھوں میں رکھ کر بھول گئی ہے! مجھ کو سونے دو ان لوگوں کی نیند جن کی آنکھوں میں بادل اور پرندے اڑتے ہیں دریا بہتے ہیں لیکن وہ پیاسے رہتے ہیں مجھ کو سونے دو چاروں ...

مزید پڑھیے

اپنے قاتل کے لیے ایک نظم

اگر میرے سینے میں خنجر اتارو تو یہ سوچ لینا ہوا کا کوئی جسم ہوتا نہیں ہے ہوا تو روانی ہے عمروں کے بہتے سمندر کی لمبی کہانی ہے آغاز جس کا نہ انجام جس کا اگر میرے سینے میں خنجر اتارو تو یہ سوچ لینا ہوا موت سے ماورا ہے ہوا ماں کے ہاتھوں کی تھپکی ہوا لوریوں کی صدا ہے ہوا ننھے بچوں کے ...

مزید پڑھیے

ایک ساحلی دن

سمندر بے کرانی کا انوکھا سلسلہ ہے آسماں بھی اپنے نیلے پن سے اکتایا ہوا ہے پانیوں پر چلتے چلتے نم ہوا کے پاؤں بھی شل ہو چکے ہیں بادباں سونے لگے ہیں ساحلوں پر آفتابی غسل کرتی لڑکیاں بھی لوٹ کر اپنے گھروں کو جا چکی ہیں ریت پر پھیلے ہوئے ہیں ان کے قدموں کے نشاں جسموں کی ننگی ...

مزید پڑھیے

شکست

اس نے یہ سوچ کے توڑا تھا مرا دل کہ مرے دل میں کوئی عکس ہی اس کا نہ رہے اب یہ عالم ہے کہ جتنے بھی ہیں دل کے ٹکڑے عکس اتنے ہی مرے دل میں ہیں شامل اس کے

مزید پڑھیے

تعلق

وہ مجھ سے سخت نالاں تھی سو اس نے مجھ کو لکھ بھیجا تعلق ختم ہے ناصر مجھے اب کال مت کرنا کوئی میسج اگر آیا تو تم کو بلاک کر دوں گی اگر ملنے کی سوچو گے تو پھر تم سوچ لینا اب سو میں نے بھی یہ لکھ بھیجا کہ جاناں ہم محبت کی اب اس منزل پہ آ پہنچے جہاں سے واپسی کا اب کوئی بھی راستہ کب ہے تعلق ...

مزید پڑھیے

بھرم

سڑک صاف سیدھی ہے اور دھوپ ہے دوپہر کا سفر اک اکیلی سڑک پیر تسمہ بپا یوں چلی جا رہی ہے کہ جیسے چلی ہی نہیں ایستادہ ہے بس جیسے بے سر کے دھڑ اور کٹے پاؤں کے آدمی آدمی تم بھی ہو آدمی میں بھی ہوں اور تم نے بھرم رکھ لیا تم نے اچھا کیا میری آنکھوں میں جھانکا نہیں ورنہ ڈر جاتے تم گہرے پانی ...

مزید پڑھیے

بارش دیکھتی ہے

بارش دیکھتی ہے کہ اسے کہاں برسنا ہے اور دھوپ جانتی ہے کہ اسے کہاں نہیں جانا مگر وہ جاتی ہے اور شکار ہوتی ہے اور کانٹوں میں پھنس کر بٹ جاتی ہے اور ریت کے ذروں کی طرح زمین سے اٹھائی نہیں جاتی رات سمجھتی ہے اور سمجھ کر خاموش رہتی ہے صرف اپنے کونوں پر گرہیں لگاتی رہتی ہے اور کہتی ہے آ ...

مزید پڑھیے

آگہی

حوض کے ساتھ ساتھ اگی سبز گھاس پر دھوپ کی لرزشیں دھیمی دھیمی دودھ کی بے مزہ کچی کچی مہک آگہی آنکھیں آنکھوں کے اندر بھی آنکھیں اگ آئی ہیں کیا گھاس کی شاخ ہوتی نہیں نہ سہی گھاس کی شاخ سے پھر بھی چمٹے ہوئی سبز ٹڈے نے بھرپور سی نیند میں جاگتے لہلہاتے پلکیں جھپکتے ہوئے پھول کو کھا لیا

مزید پڑھیے

بالآخر

اور جب وہ چلی لوگ بولے کہ جھلی ہے پاگل ہے مینٹل ہے یہ اور اس نے سنا تو ہنسی انگلیوں سے وہ دیوار پر دو لکیریں بناتی چلی ہی گئیں لکیریں جو دیوار پر چند لفظوں کے موہوم سے فاصلے سے اکٹھی چلی جا رہی تھیں دما دم رواں بے رکے آگے آگے ہی آگے نہ ملنے کی خاطر کہ ملنا ہے تو حرف آخر نہیں

مزید پڑھیے

محبت کی آخری نظم

دم رخصت تپے ہوئے لہجے میں خاموش رہنے والا آنکھوں تک سلگ اٹھا ہوگا اس کی سانسوں سے میرا دم رک گیا اور میری ہتھیلیاں دھڑکنے لگیں میرا مرد پورے چاند کی طرح مجھ پر چھا گیا وہ آگ سے مرتب ہے میرے انگ انگ میں پگھلنے کی آرزو ہے اس کے لمس میں میرے خمیر کی خوشبو کہاں سے سما گئی کہ میں اپنی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 374 سے 960