شاعری

چھوٹی سی شاپنگ

گوٹے والی لال اوڑھنی اس پر چولی گھاگرا اسی سے میچنگ کرنے والا چھوٹا سا اک ناگرا چھوٹی سی! یہ شاپنگ تھی یا! کوئی جادو ٹونا لمبا چوڑا شہر اچانک بن کر ایک کھلونا اتہاسوں کا جال توڑ کے داڑھی پگڑی اونٹ چھوڑ کے ''الف'' سے اماں ''بے'' سے بابا بیٹھا باج رہا تھا پانچ سال کی بچی بن کر ...

مزید پڑھیے

دیوانگی رہے باقی

تو اس طرح سے مری زندگی میں شامل ہے جہاں بھی جاؤں یہ لگتا ہے تیری محفل ہے ہر ایک رنگ ترے روپ کی جھلک لے لے کوئی ہنسی کوئی لہجہ کوئی مہک لے لے یہ آسمان یہ تارے یہ راستے یہ ہوا ہر ایک چیز ہے اپنی جگہ ٹھکانے سے کئی دنوں سے شکایت نہیں زمانے سے مری تلاش تری دل کشی رہے باقی خدا کرے کہ یہ ...

مزید پڑھیے

رخصت ہوتے وقت

رخصت ہوتے وقت اس نے کچھ نہیں کہا لیکن ایئرپورٹ پر اٹیچی کھولتے ہوئے میں نے دیکھا میرے کپڑے کے نیچے اس نے اپنے دونوں بچوں کی تصویر چھپا دی ہے تعجب ہے چھوٹی بہن ہو کر بھی اس نے مجھے ماں کی طرح دعا دی ہے

مزید پڑھیے

مشین

مشین چل رہی ہیں نیلے پیلے لال لوہے کی مشینوں میں ہزاروں آہنی پرزے مقرر حرکتوں کے دائروں میں چلتے پھرتے ہیں سحر سے شام تک پر شور آوازیں اگلتے ہیں بڑا چھوٹا ہر اک پرزہ کسا ہے کیل پنچوں سے ہزاروں گھومتے پرزوں کو اپنے پیٹ میں ڈالے مشینیں سوچتی ہیں چیختی ہیں جنگ کرتی ہیں مشینیں چل ...

مزید پڑھیے

سنا ہے میں نے

سنا ہے میں نے! کئی دن سے تم پریشاں ہو کسی خیال میں ہر وقت کھوئی رہتی ہو گلی میں جاتی ہو جاتے ہی لوٹ آتی ہو کہیں کی چیز کہیں رکھ کے بھول جاتی ہو کچن میں! روز کوئی پیالی توڑ دیتی ہو مسالہ پیس کر سل یونہی چھوڑ دیتی ہو نصیحتوں سے خفا مشوروں سے الجھن سی کمر میں درد کی لہریں رگوں میں ...

مزید پڑھیے

بوڑھا

ہر ماں اپنی کوکھ سے اپنا شوہر ہی پیدا کرتی ہے میں بھی جب اپنے کندھوں پر بوڑھے ملبے کو ڈھو ڈھو کر تھک جاؤں گا اپنی محبوبہ کے کنوارے گربھ میں چھپ کر سو جاؤں گا ہر ماں اپنی کوکھ سے اپنا شوہر ہی پیدا کرتی ہے

مزید پڑھیے

تاریخ دان سے

قدیم دنیا کا پہلا قاتل قابیل ہمیشہ یاد رکھا جائے گا سنا ہے پہلی بار جب کوئی نیا کام کرتا ہے تو وہ اسی کے نام سے ہمیشہ کے لئے منسوب ہو جاتا ہے تو پیار پہلی بار محبت کس نے کی ہوگی کیا آدم اور حوا نے نہیں نہیں وہ محبت نہیں وہ تو خطا تھی حدود سے تجاوز تھا یا شاید تجسس قدیم دنیا کے تاریخ ...

مزید پڑھیے

ستاروں کے نگر میں

ستاروں کے نگر جانے کا اکثر سوچتے ہیں ہم تمہیں اپنا بنانے کا بھی اکثر سوچتے ہیں ہم افق کے پار جا کر چاند تارے ڈھونڈ لانے کی ہماری آرزو دیکھو چلو کچھ دیر خود کو ہم تمہارے روبرو کر دیں ستاروں کے نگر جانے کی خواہش ملتوی کر دیں کہ ہم جب تم کو اپنے سامنے پائیں تو سارے بھیگے منظر دھیرے ...

مزید پڑھیے

نظم

مرے تخیل کو بولنے کا ہنر نہیں تھا حروف جتنے خرد کی فرہنگ میں پڑے تھے میں ان کو چننے کے فن سے واقف تھا اور ترتیب جانتا تھا میں سب تراکیب جانتا تھا مگر کمی تھی کمی بھی ایسی کہ جس سے الفاظ نیم مردہ سے لگ رہے تھے میں سارے گر آزما کے جب تھک گیا تو سگریٹ جلا لیا تھا اور آنکھیں موندے ترے ...

مزید پڑھیے

نظم

ملے کچہری میں اک روز شیخ خیراتی ہے اک زمانے سے ان کی مری علیک سلیک نہیں ہے جھوٹی گواہی سے اجتناب انہیں کیا نہ آج تک اس پر مگر کسی نے اٹیک علاوہ اس کے امیروں کے ہیں یہ سپلائر کہ مال کرتے ہیں یہ ان کی حسب منشا پیک ہو جس میں فائدہ وہ کام کر گزرتے ہیں کبھی فرنٹ میں جا کر نہیں ہیں ہوتے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 353 سے 960