شاعری

بس یونہی جیتے رہو

بس یونہی جیتے رہو کچھ نہ کہو صبح جب سو کے اٹھو گھر کے افراد کی گنتی کر لو ٹانگ پر ٹانگ رکھے روز کا اخبار پڑھو اس جگہ قحط گرا جنگ وہاں پر برسی کتنے محفوظ ہو تم شکر کرو ریڈیو کھول کے فلموں کے نئے گیت سنو گھر سے جب نکلو تو شام تک کے لیے ہونٹوں میں تبسم سی لو دونوں ہاتھوں میں مصافحے بھر ...

مزید پڑھیے

کچی دیواریں

میری ماں ہر دن اپنے بوڑھے ہاتھوں سے ادھر ادھر سے مٹی لا کر گھر کی کچی دیواروں کے زخموں کو بھرتی رہتی ہے تیز ہواؤں کے جھونکوں سے بیچاری کتنا ڈرتی ہے میری ماں کتنی بھولی ہے برسوں کی سیلی دیواریں چھوٹے موٹے پیوندوں سے آخر کب تک رک پائیں گی جب کوئی بادل گرجے گا ہر ہر کرتی ڈھ جائیں ...

مزید پڑھیے

کھیلتا بچہ

گھاس پر کھیلتا ہے اک بچہ پاس ماں بیٹھی مسکراتی ہے مجھ کو حیرت ہے جانے کیوں دنیا کعبہ و سومنات جاتی ہے

مزید پڑھیے

ہجرت

ضروری کاغذوں کی فائلوں سے بے ضروری کاغذوں کو چھانٹا جاتا ہے کبھی کچھ پھینکا جاتا ہے کبھی کچھ بانٹا جاتا ہے کئی برسوں کے رشتوں کو پلوں میں کاٹا جاتا ہے وہ شیشہ ہو کہ پتھر ہو بنا دم کا وہ بندر ہو نشانوں سے بھرا یا کوئی بوسیدہ کلنڈر ہو پرانے گھر کے طاقوں میں مچانوں میں وہ سب!! چھوٹا ...

مزید پڑھیے

نیا دن

سورج! اک نٹ کھٹ بالک سا دن بھر شور مچائے ادھر ادھر چڑیوں کو بکھیرے کرنوں کو چھترائے قلم درانتی برش ہتھوڑا جگہ جگہ پھیلائے شام! تھکی ہاری ماں جیسی اک دیا ملکائے دھیمے دھیمے ساری بکھری چیزیں چنتی جائے

مزید پڑھیے

اتفاق

ہم سب ایک اتفاق کے مختلف نام ہیں مذہب ملک زبان اسی اتفاق کی ان گنت کڑیاں ہیں اگر پیدائش سے پہلے انتخاب کی اجازت ہوتی تو کوئی لڑکا اپنے باپ کے گھر میں پیدا ہونا پسند نہیں کرتا

مزید پڑھیے

ستمبر۱۹۶۵

کسی قصائی نے اک ہڈی چھیل کر پھینکی گلی کے موڑ سے دو کتے بھونکتے اٹھے کسی نے پاؤں اٹھائے کسی نے دم پٹکی بہت سے کتے کھڑے ہو کر شور کرنے لگے نہ جانے کیوں مرا جی چاہا اپنے سب کپڑے اتار کر کسی چوراہے پر کھڑا ہو جاؤں ہر ایک چیز پہ جھپٹوں گھڑی گھڑی چلاؤں نڈھال ہو کے جہاں چاہوں جسم پھیلا ...

مزید پڑھیے

کل رات

کل رات وہ تھکا ہوا چپ چپ اداس اداس سنتا رہا سڑک سے گزرتی بسوں کا شور پیپل کا پتا ٹوٹ کے دیوار ڈھا گیا آنتوں کا درد نیند کی پریوں کو کھا گیا جھنجھلا کے اس نے چاندی کا دیپک بجھا دیا آکاش کو سمیٹ کے نیچے گرا دیا پھیلی ہوئی زمیں کو دھوئیں سا اڑا دیا پھر کچھ نہیں نہ کھیت، نہ میداں، نہ ...

مزید پڑھیے

والد کی وفات پر

تمہاری قبر پر میں فاتحہ پڑھنے نہیں آیا مجھے معلوم تھا تم مر نہیں سکتے تمہاری موت کی سچی خبر جس نے اڑائی تھی وہ جھوٹا تھا وہ تم کب تھے کوئی سوکھا ہوا پتہ ہوا سے مل کے ٹوٹا تھا مری آنکھیں تمہارے منظروں میں قید ہیں اب تک میں جو بھی دیکھتا ہوں سوچتا ہوں وہ وہی ہے جو تمہاری نیک نامی اور ...

مزید پڑھیے

وہ لڑکی

وہ لڑکی یاد آتی ہے جو ہونٹوں سے نہیں پورے بدن سے بات کرتی تھی سمٹتے وقت بھی چاروں دشاؤں میں بکھرتی تھی وہ لڑکی یاد آتی ہے وہ لڑکی اب نہ جانے کس کے بستر کی کرن ہوگی ابھی تک پھول کی مانند ہوگی یا چمن ہوگی سجیلی رات اب بھی جب کبھی گھونگھٹ اٹھاتی ہے لچکتی کہکشاں جب بنتے بنتے ٹوٹ جاتی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 352 سے 960