شاعری

(2)حسن کوزہ گر

اے جہاں زاد، نشاط اس شب بے راہ روی کی میں کہاں تک بھولوں؟ زور مے تھا کہ مرے ہاتھ کی لرزش تھی کہ اس رات کوئی جام گرا ٹوٹ گیا تجھے حیرت نہ ہوئی! کہ ترے گھر کے دریچوں کے کئی شیشوں پر اس سے پہلے کی بھی درزیں تھیں بہت تجھے حیرت نہ ہوئی! اے جہاں زاد، میں کوزوں کی طرف اپنے تغاروں کی طرف اب ...

مزید پڑھیے

افق ضمیر کی تاریکیوں سے آلودہ

افق ضمیر کی تاریکیوں سے آلودہ دل و نظر میں وہی انتقام کے شعلے کہیں پہ خون کہیں پر ہے آبرو ریزی جہالتوں کے سمندر میں ڈوبتے انساں اٹھائے دوش پہ اک منصفی کے لاشے کو پھرے ہے شہر میں انسانیت کا سارا وجود نہ کوئی داد نہ فریاد سننے والا ہے ہمارے درد کو راحت سے بھرنے والا ہے چلو کہ دور ...

مزید پڑھیے

ہمارا غم

کسی نے چہرہ ہمارا کبھی پڑھا ہی نہیں کسی نے نام ہمارا کبھی لیا ہی نہیں تمہاری بزم میں ہم بھی شریک رہتے ہیں ہمارا حال کسی نے کبھی سنا ہی نہیں بلند و بانگ یا دعوے یہ دوستی کے اصول عمل کے نام سے خالی رہیں تو سارے فضول کبھی تو پاس ادب ہو وفا شعاری کا دل و نظر میں ہو جذبہ خلوص کاری کا اگر ...

مزید پڑھیے

ایک پیغام اپنے نام

ہندو مسلم بھید مٹا سب سے اپنی یاری رکھ چاہے اپنی جان گنوا آن وطن کی پیاری رکھ دشمن سے بھی یاری رکھ ایسی بھی دل داری رکھ مایوسی سے مت گھبرا کوشش اپنی جاری رکھ پہلے دینی فرض نبھا پیچھے دنیا داری رکھ دور سفر پر جانا ہے چلنے کی تیاری رکھ کھوٹے سکے مت اپنا آنکھوں میں بیداری رکھ ٹھونک ...

مزید پڑھیے

امن کا سورج

تم تشدد کے روادار نہیں ہو لیکن امن کی دل سے حمایت بھی کہاں کی تم نے سالہا سال رقابت کے یہ وحشی جذبے کتنے گلشن کی زمیں کر گئے پامال مگر خون انساں بھی ہوا آگ کے شعلے بھی اٹھے دوریاں اور بڑھیں اور بڑھیں اور بڑھیں مسئلہ سب کا بقا کا ہو جہاں پیش نظر اس کے حل کرنے کا انداز بدلنا ...

مزید پڑھیے

احتجاج

چمن زاروں کو صحرا کر دیا ہے یہ کس نے مسخ چہرہ کر دیا ہے جہان نو کی اس اندھی روش نے مرے زخموں کو گہرا کر دیا ہے سنہرے خواب دکھلا کر کسی نے نئی بستی کا شہرہ کر دیا ہے اور اپنی بد قماشی کے چلن سے ہمیں بازی کا مہرہ کر دیا ہے نہیں فریاد کوئی سننے والا سبھی کو گونگا بہرہ کر دیا ہے ہمارے ...

مزید پڑھیے

خواب حسیں

ترے گلاب سے ہونٹوں کی تازگی کی قسم بہار کی کوئی آہٹ سنائی دیتی ہے نظر کی جھیل میں مجھ کو اتارنے والے حیات اور بھی رنگیں دکھائی دیتی ہے ابھی ابھی یہ حسیں خواب میں نے دیکھا ہے اگرچہ تم مرے اتنے قریب آئی ہو کہ تم کو چھو لوں تو شاید ہی چھو سکوں یا پھر نظر جو تم سے ملاؤں یقیں نہ تھا اس ...

مزید پڑھیے

دروازے کے باہر

وقت ہے باہر کھڑا یہ کسے معلوم ہے دروازہ کھولیں کیا ہمارا منتظر ہو کون سا دکھ کونسی راحت نصابوں میں لکھی سچائی یا آنکھوں سے گرتا اشک تاریکی کھڑی ہو یا کسی ٹہنی کا تنہا پھول آنکھیں سرد گہری جن میں کچھ کھلتا نہ ہو کہ کیا ہے پوشیدہ نمایاں کیا ہے کس کا عکس ہے کیسی شبیہ ہے یہ سمندر ہے ...

مزید پڑھیے

کورا برتن

وہ راہ چلتے ہوئے ملی تھی وہ جس کے چشمے کے موٹے شیشوں پہ ذات کے دکھ کی گرد کی تہ جمی ہوئی تھی وہ جس کے چہرے وہ جس کے ماتھے پر اک مسلسل سفر کا نوحہ لکھا ہوا تھا وہ جس کی آنکھوں میں رتجگوں کی عذاب دیدہ زہر کی خوشبو رچی ہوئی تھی وہ جس کی باتوں میں اس کے اندر کا زرد سناٹا بولتا تھا وہ ...

مزید پڑھیے

کتا بھونکتا ہے

پرانے شہر کی ویراں گلی میں جب بھی آدھی رات ہوتی ہے تو کتا بھونکتا ہے کتا بھونکتا ہے ایک سایا سا ابھرتا ہے مرے کمرے کے ویراں طاق پر رکھے دئے کی لو لرزتی ہے سڑک کے اک سرے سے اجنبی سی چاپ ابھرتی ہے اداسی گھر کے دروازے پر آ کر بین کرتی ہے اور کتا بھونکتا ہے کتا بھونکتا ہے نیم شب کو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 345 سے 960