(2)حسن کوزہ گر
اے جہاں زاد، نشاط اس شب بے راہ روی کی میں کہاں تک بھولوں؟ زور مے تھا کہ مرے ہاتھ کی لرزش تھی کہ اس رات کوئی جام گرا ٹوٹ گیا تجھے حیرت نہ ہوئی! کہ ترے گھر کے دریچوں کے کئی شیشوں پر اس سے پہلے کی بھی درزیں تھیں بہت تجھے حیرت نہ ہوئی! اے جہاں زاد، میں کوزوں کی طرف اپنے تغاروں کی طرف اب ...