شاعری

انتقام

اس کا چہرہ، اس کے خد و خال یاد آتے نہیں اک شبستاں یاد ہے اک برہنہ جسم آتشداں کے پاس فرش پر قالین، قالینوں پہ سیج دھات اور پتھر کے بت گوشۂ دیوار میں ہنستے ہوئے! اور آتشداں میں انگاروں کا شور ان بتوں کی بے حسی پر خشمگیں اجلی اجلی اونچی دیواروں پہ عکس ان فرنگی حاکموں کی یادگار جن کی ...

مزید پڑھیے

(3) حسن کوزہ گر

جہاں زاد وہ حلب کی کارواں سرا کا حوض، رات وہ سکوت جس میں ایک دوسرے سے ہم کنار تیرتے رہے محیط جس طرح ہو دائرے کے گرد حلقہ زن تمام رات تیرتے رہے تھے ہم ہم ایک دوسرے کے جسم و جاں سے لگ کے تیرتے رہے تھے ایک شاد کام خوف سے کہ جیسے پانی آنسوؤں میں تیرتا رہے ہم ایک دوسرے سے مطمئن زوال عمر ...

مزید پڑھیے

اجنبی عورت

ایشیا کے دور افتادہ شبستانوں میں بھی میرے خوابوں کا کوئی روماں نہیں! کاش اک دیوار ظلم میرے ان کے درمیاں حائل نہ ہو! یہ عمارات قدیم یہ خیاباں، یہ چمن، یہ لالہ زار، چاندنی میں نوحہ خواں اجنبی کے دست غارت گر سے ہیں زندگی کے ان نہاں خانوں میں بھی میرے خوابوں کا کوئی روماں نہیں! کاش ...

مزید پڑھیے

دریچے کے قریب

جاگ اے شمع شبستان وصال محفل خواب کے اس فرش طرب ناک سے جاگ لذت شب سے ترا جسم ابھی چور سہی آ مری جان مرے پاس دریچے کے قریب دیکھ کس پیار سے انوار سحر چومتے ہیں مسجد شہر کے میناروں کو جن کی رفعت سے مجھے اپنی برسوں کی تمنا کا خیال آتا ہے سیم گوں ہاتھوں سے اے جان ذرا کھول مے رنگ جنوں خیز ...

مزید پڑھیے

آگ کے پاس

پیر واماندہ کوئی کوٹ پہ محنت کی سیاہی کے نشاں نوجواں بیٹے کی گردن کی چمک دیکھتا ہوں اک رقابت کی سیہ لہر بہت تیز مرے سینۂ سوزاں سے گزر جاتی ہے جس طرح طاق پہ رکھے ہوئے گل داں کی مس و سیم کے کاسوں کی چمک اور گلو الجھے ہوئے تاروں سے بھر جاتا ہے کوئلے آگ میں جلتے ہوئے کن یادوں کی کس رات ...

مزید پڑھیے

میرے بھی ہیں کچھ خواب

اے عشق ازل گیر و ابد تاب میرے بھی ہیں کچھ خواب میرے بھی ہیں کچھ خواب اس دور سے اس دور کے سوکھے ہوئے دریاؤں سے پھیلے ہوئے صحراؤں سے اور شہروں کے ویرانوں سے ویرانہ گروں سے میں حزیں اور اداس! اے عشق ازل گیر و ابد تاب میرے بھی ہیں کچھ خواب! اے عشق ازل گیر و ابد تاب میرے بھی ہیں کچھ ...

مزید پڑھیے

وزیرے چنیں

تو جب سات سو آٹھویں رات آئی تو کہنے لگی شہرزاد: اے جواں بخت شیراز میں ایک رہتا تھا نائی؛ وہ نائی تو تھا ہی مگر اس کو بخشا تھا قدرت نے اک اور نادر گراں تر ہنر بھی کہ جب بھی کسی مرد دانا کا ذہن رسا زنگ آلودہ ہونے کو آتا تو نائی کو جا کر دکھاتا کہ نائی دماغوں کا مشہور ماہر تھا وہ کاسۂ ...

مزید پڑھیے

زندگی سے ڈرتے ہو

زندگی سے ڈرتے ہو؟ !زندگی تو تم بھی ہو زندگی تو ہم بھی ہیں! زندگی سے ڈرتے ہو؟ آدمی سے ڈرتے ہو؟ آدمی تو تم بھی ہو آدمی تو ہم بھی ہیں آدمی زباں بھی ہے آدمی بیاں بھی ہے اس سے تم نہیں ڈرتے! حرف اور معنی کے رشتہ ہائے آہن سے آدمی ہے وابستہ آدمی کے دامن سے زندگی ہے وابستہ اس سے تم نہیں ...

مزید پڑھیے

گناہ

آج پھر آ ہی گیا آج پھر روح پہ وہ چھا ہی گیا دی مرے گھر پہ شکست آ کے مجھے! ہوش آیا تو میں دہلیز پہ افتادہ تھا خاک آلودہ و افسردہ و غمگین و نزار پارہ پارہ تھے مری روح کے تار آج وہ آ ہی گیا روزن در سے لرزتے ہوئے دیکھا میں نے خرم و شاد سر راہ اسے جاتے ہوئے سالہا سال سے مسدود تھا یارانہ ...

مزید پڑھیے

رقص کی رات

رقص کی رات کسی غمزۂ عریاں کی کرن اس لیے بن نہ سکی راہ تمنا کی دلیل کہ ابھی دور کسی دیس میں اک ننھا چراغ جس سے تنویر مرے سینۂ غم ناک میں ہے ٹمٹماتا ہے اس اندیشے میں شاید کہ سحر ہو جائے اور کوئی لوٹ کے آ ہی نہ سکے! رقص کی رات کوئی دور طرب بن نہ سکتا تھا ستاروں کی خدائی گردش؟ محور حال ...

مزید پڑھیے
صفحہ 344 سے 960