شاعری

میرے لئے کیا ہے کچھ بھی نہیں

یہ گاؤں کا منظر سناٹا اور شام کی دھندلی تاریکی اک شام بہت رنگین مگر مفلس کی نگاہوں میں پھیکی دھرتی پہ یہ پانی سونے کا آکاش پہ نہریں چاندی کی یہ چاند یہ تارے یہ دریا میرے لئے کیا ہے کچھ بھی نہیں یہ شہر کی چلتی سڑکوں پر ہر سمت دکانیں نورانی بجلی میں بھی جلتا ہو جیسے افلاس کے پتے کا ...

مزید پڑھیے

آنسو

جب سے کہ محبت ہوئی پیارے ہیں یہ آنسو جیسے کہ میری آنکھ کے تارے ہیں یہ آنسو کہتے ہو کہ للہ اب آنسو نہ گراؤ ایسے میں کہ جینے کے سہارے ہیں یہ آنسو ہاں ہاں انہیں دامان محبت میں جگہ دو آنکھیں ہیں مری اور تمہارے ہیں یہ آنسو ہر خون جگر کے لئے تیار ہوں اب بھی ہارا ہوں نہ میں اور نہ ہارے ...

مزید پڑھیے

پہلے فن دست و گریباں ہیں کراں تا بہ کراں

پہلے فن دست و گریباں ہیں کراں تا بہ کراں سرنگوں بیٹھی ہوئی ہے خاک پر اردو زباں کشتیٔ اردو زباں کے ناخداؤ کیا ہوا علم و فن شعر و سخن کے رہنماؤ کیا ہوا کیا ہوئی وہ عظمتیں کچھ تو بتاؤ کیا ہوا پیچھے ہٹتی جا رہی کیوں صف چاراگراں سرنگوں بیٹھی ہوئی ہے خاک پر اردو زباں دیکھیے جس کو بھی ...

مزید پڑھیے

زیاں

ایک انجان درد کا لمحہ راز کرتا ہے منکشف کیسے یوں ہی پہروں گزار دیتے ہیں سوچتے ہیں کہ آج کر لیں شمار درد اپنا زیادہ ہے کہ خوشی وقت آگے ہی بڑھتا جاتا ہے اور کچھ ہاتھ بھی نہیں آتا ایسا لگتا ہے رائیگاں ہے سب فتح کی سر خوشی شکست کا غم یوں ہی ہستی کا یہ زیاں ہے سب

مزید پڑھیے

سچ

وہ کہتا ہے وہ سچ بولتا ہے ایسا سچ جو دل کو چیر دے روح میں شگاف ڈال دے وہ سچ ہی تو کہتا ہے اس کے سچ بولنے کی عادت سے کتنے دل فگار اور روحیں چھلنی ہوتی ہیں اس کے سچ کا زہر روز وہ نہیں میں ہی پیتی ہوں اس کے سچ کا نشانہ میں ہی بنتی ہوں اسے اپنی حق گوئی کا کوئی انعام سند اعزاز ملنا چاہیے سو ...

مزید پڑھیے

کیا رشتہ ہے

دھرتی میری ماتا ہے چندا میرا ماما ہے یہ بھی تو بتلائے کوئی سورج سے کیا رشتہ ہے بلی شیر کی خالہ ہے گھر گھر ماری پھرتی ہے شیر کو کیا معلوم نہیں بلی سے کیا رشتہ ہے گنگا ہمالہ کی بیٹی چھوڑ کے اپنے باپ کا گھر دوڑے ساگر کی جانب ساگر سے کیا رشتہ ہے یہ گندہ سا لڑکا کیوں روز میرے گھر آتا ...

مزید پڑھیے

سڑک کے دونوں طرف خیرت ہے

آسمان کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک اڑ رہی ہے رنگ برنگی موت پتنگوں کی طرح بل کھاتی ہوئی جس کی ڈور گلی کے منچلے لڑکوں کے ہاتھوں میں ہے بکھرتے چاند کی ادھ جلی پرچھائیں سے بنے رتھ پر سوار جھومتے ہوئے آتے ہیں آوارہ کتے جو بھونکتے ہیں کبھی دھیمی اور کبھی تیز آواز میں سمجھ دار ...

مزید پڑھیے

کتھارسس

ہم انہیں پالتے ہیں اپنے بچوں کی طرح اپنا خون پلا کر اپنے حصے کا رزق کھلا کر انہیں سیر کراتے ہیں میلے ٹھیلے اور بازاروں کی اپنی انگلی تھما کر کبھی انہیں رزق برق لباس پہنا کر چھوڑ دیتے ہیں گھنے جنگل میں بے تحاشہ رقص کرنے کے لیے کبھی کہتے ہیں ندی کے کنارے پھسلن بھری ڈھلان پر دوڑ کر ...

مزید پڑھیے

بھیک

کسی مندر کی گھنٹی سے ڈرا سہما ہوا بھگوان اک ٹوٹے ہوئے ویران گھر میں جا چھپے گا اور پجاری خون میں ڈوبے ہوئے ترشول لے کر دیویوں اور دیوتاؤں کو پکاریں گے صلیبیں بھی سبھی خالی ملیں گی ہر طرف گرجا گھروں میں کیوں کہ سب معصوم طینت لوگ گلی کے موڑ پر سولی سے لٹکے دعائے مغفرت میں ہر گھڑی ...

مزید پڑھیے

اپنی مرضی کے خلاف

وہ جو مستقبل کے ڈرائنگ روم میں بیٹھے ماضی کا قہوہ پی رہے ہیں حال بہت بڑی بساط ہے شطرنج کی ان کے لیے اور عام آدمی وہ مہرہ جو پٹ رہا ہے شاہ کو بچانے کے لیے اپنی مرضی کے خلاف

مزید پڑھیے
صفحہ 336 سے 960