میرے لئے کیا ہے کچھ بھی نہیں
یہ گاؤں کا منظر سناٹا اور شام کی دھندلی تاریکی اک شام بہت رنگین مگر مفلس کی نگاہوں میں پھیکی دھرتی پہ یہ پانی سونے کا آکاش پہ نہریں چاندی کی یہ چاند یہ تارے یہ دریا میرے لئے کیا ہے کچھ بھی نہیں یہ شہر کی چلتی سڑکوں پر ہر سمت دکانیں نورانی بجلی میں بھی جلتا ہو جیسے افلاس کے پتے کا ...