شاعری

عام معافی کے لیے

بین کرتی عورتوں سے ہم پوچھ رہے ہیں میرؔ کے شعر کا مطلب بے گھر بھونروں سے کہہ رہے ہیں شکنتلا کو رجھانے کے لیے لو بھری دوپہر میں کوکنے کا تقاضہ کر رہے ہیں کوئل سے اس مشکل وقت میں کچھ لوگ کہہ رہے ہیں ہم سے اپنی وفاداری ثابت کرنے کے لیے ایک ٹوٹے ہوئے برتن کو چاک سے وفاداری ثابت کرنے کے ...

مزید پڑھیے

مجھے کچھ یاد آتا ہے

تمہارے شہر کو چھوڑے ہوئے اکیس دن اکیس راتیں اور کچھ پرکار لمحے ہو چکے ہیں مرے اعمال نامے پر کسی بے جان جذبے کا اور ادھورا جسم جلتا ہے وہاں جب دن نکلتا ہے وہاں جب شام ہوتی ہے کسی کے وائلن جیسے بدن پر نرم دھوپوں کے نکھرتے سائے اپنی سرمئی آنکھوں سے دکھ کے راگ گاتے ہیں وہاں جب رات ...

مزید پڑھیے

اچھا عشق

اچھے عشق کے لیے بہت کچھ درکار ہے عشق کے علاوہ بھی بہت کچھ اور جن کے پاس عشق ہوتا ہے بہت کچھ نہیں ہوتا ان کے پاس برے لوگوں کے پاس وہ سب کچھ ہوتا ہے جس سے پیدا کیا جا سکے اچھے اور سچے عشق کا کبھی نہ ٹوٹنے والا بھرم اچھا عشق اچھے لوگوں کے بس کی بات نہیں

مزید پڑھیے

فریزر میں رکھی شام

تم نے میری روح کو اک کالے تابوت میں رکھ کر کیلیں ٹھونکیں جسم کو لیکن چھوڑ دیا گھنی رات کے جنگل میں سو جانے کو اور میں تن کے ٹکڑے کر کے لفظوں کے صندوق میں بھر کر بیتے دنوں کے فریزر میں رکھ آیا ہوں جب تم اپنی گزری شاموں کے پٹ کھولوگی ڈر جاؤگی

مزید پڑھیے

پیش لفظ ایک محبت نامے کا

کمرے کی سیلن سے اکتا کر کہیں چلی گئی ہے میرے حصے کی دھوپ بندھن سے ڈرنے والی چڑیا اڑ رہی ہے کھوکھلے آکاش میں اور میں میں تو استقبال بھی نہیں کر سکتا کسی نئی آہٹ کا کیونکہ ڈر گیا ہوں میں آتے ہوئے قدموں کی لوٹتی ہوئی بازگشت سے میری آنکھوں میں جم گئی ہے اداس لو بھری دوپہر ہمالہ کی ...

مزید پڑھیے

تقویٰ

بہت عیار تھے وہ لوگ وہ سارا دن خدا کو یاد کرتے مسجدوں میں جاتے روتے گڑگڑاتے اور تسبیحیں پڑھا کرتے زمانہ معتقد تھا اس قدر ان کا وہ جب باہر نکلتے لوگ ان کے راستے کی گرد کو اپنے عماموں سے ہٹاتے تھے ان کی خاطر خوان پر نعمت سجاتے تھے مگر جب رات آتی اور اندھیرے ہر در و دیوار پر خیمے ...

مزید پڑھیے

گڈ نائٹ

رات کا وقت ہے کوئی آہٹ نہ کر بات جو بھی ہو من میں وہ من میں ہی رکھ بول دینے سے تکلیف گھٹتی نہیں بلکہ بٹ جاتی ہے اور بڑھ جاتی ہے رات کے وقت تو چپ ہی رہنا مناسب ہے کہنا نہیں ایک بھی بات مجھ پر جو بھاری پڑے کوئی بھی بات جو مجھ کو سونے نہ دے اور سن بات سن میرے سن لینے سے یہ پریشانیاں حل نہ ...

مزید پڑھیے

رابطہ

ایک رجعت کے مرحلے میں رہوں میں پلٹنے کے مشغلے میں رہوں یہ تقاضہ تھا جانے والوں کا بچھڑی نسلوں سے رابطے میں رہوں میں کڑی ہوں گئے زمانوں کی شہر ماضی کے خاک دانوں کی راکھ ہوتے ہوئے جہانوں کی بھولے بسرے ہوئے فسانوں کی سہہ سکے گا نہ اب مزاج اپنا نیش وحشت کی درد انگیزی اپنی اقدار سے ...

مزید پڑھیے

اجالے کی لکیر

اک نئی صبح درخشاں کا روپہلا آنچل اپنے ہم راہ لئے عزم جواں کی تنویر ساقیٔ وقت کے رخسار پہ لہرایا ہے یہ ہے تاریک فضاؤں میں اجالے کی لکیر راستے پر کئی خورشید نئے جل اٹھے روشنی دیکھیے تا حد نظر پھیل گئی آسمانوں کو زمینوں کو نئے رنگ ملے اور فضا نکہت و رعنائی سے معمور ہوئی ہر نفس ...

مزید پڑھیے

ساحرؔ لدھیانوی کے لئے

سحر تھا جس کی باتوں میں نخل ثمر تھا جس کے ہاتھوں میں جادو بیاں ایسا جو بانجھ زمینوں سے فصلیں اگا گیا وجود کی بے معنی کتابوں میں ہمیں درس عبرت دے گیا موت اور زیست کے درمیاں کتنے فاصلے مسدود کر گیا تجربات کا بس اپنے پیالوں میں گھول کر شاخوں میں آنسو کھلا گیا لے آیا وہ سوغات جو زخم ...

مزید پڑھیے
صفحہ 337 سے 960