شاعری

الفاظ

یہ لفظ سقراط لفظ عیسیٰ میں ان کا خالق یہ میرے خالق یہی ازل ہیں یہی ابد ہیں یہی زماں ہیں یہی مکاں ہیں یہ ذہن تا ذہن رہگزر ہیں یہ روح تا روح اک سفر ہیں صداقت عصر بھی یہی ہیں کراہت جبر بھی یہی ہیں علامت درد بھی یہی ہیں کرامت صبر بھی یہی ہیں بغیر تفریق رنگ و مذہب زمیں زمیں ان کی ...

مزید پڑھیے

دعا دعا چہرہ

دعا دعا وہ چہرہ حیا حیا وہ آنکھیں صبا صبا وہ زلفیں چلے لہو گردش میں رہے آنکھ میں دل میں بسے مرے خوابوں میں جلے اکیلے پن میں ملے ہر اک محفل میں دعا دعا وہ چہرہ کبھی کسی چلمن کے پیچھے کبھی درخت کے نیچے کبھی وہ ہاتھ پکڑتے کبھی ہوا سے ڈرتے کبھی وہ بارش اندر کبھی وہ موج سمندر کبھی وہ ...

مزید پڑھیے

وجود اپنا مجھے دے دو

تمہارے ہیں کہو اک دن کہو اک دن کہ جو کچھ بھی ہمارے پاس ہے سب کچھ تمہارا ہے کہو اک دن جسے تم چاند سا کہتے ہو وہ چہرہ تمہارا تھا ستارہ سی جنہیں کہتے ہو وہ آنکھیں تمہاری ہیں جنہیں تم شاخ سی کہتے ہو وہ بانہیں تمہاری ہیں کبوتر تولتے ہیں پر تو پروازیں تمہاری ہیں جنہیں تم پھول سی کہتے ہو ...

مزید پڑھیے

غم

غم کو اک سوغات سمجھ کر گلے لگائیں زیست کی اندھی راہ گزر پر چلتے جائیں جب کے چاروں اور بھکاری سب ہی بھکاری سکھ کی بھکشا مانگ رہے ہیں سکھ کی چھایا کس نے دیکھی کس نے خوشبو کے نغموں کو چوما سکھ جیون میں جھوٹا سپنا پانی کے سینہ کا چھالا غم مخلص ہے غم سچائی غم کی تھاہ نہ دل نے پائی غم ...

مزید پڑھیے

خود فریبی

کب تک اپنی آنکھیں جھکا کر چلتی رہو گی کب تک اپنے دل کے دروازے پر دستک نہ دو گی کب تک اپنی پلکوں پر جھوٹے خواب سجائے رکھو گی بولو کب تک آخر کب تک حادثوں کو تقدیر سمجھ کر چپکے چپکے احساسات کی آگ میں آٹھوں پہر جلتی رہو گی اپنے تازہ زخموں پر ہنس ہنس کر مسکراتی رہو گی کیا صدیوں تک یوں ہی ...

مزید پڑھیے

قیدی

اونگھتی رات دبے پاؤں گزرتی چلی جاتی ہے اور چاندی کے طشت جیسا چاند نیم کی ٹہنیوں کے درمیاں پھنس گیا ہے ہوا چلے تو ٹہنیاں لچکیں اور یہ چاند ان کی گرفت سے آزاد ہو کر اپنی راہ لے

مزید پڑھیے

ناداروں کی عید

زردار نمازی عید کے دن کپڑوں میں چمکتے جاتے ہیں نادار مسلماں مسجد میں جاتے بھی ہوئی شرماتے ہیں ملبوس پریشاں دل غمگیں افلاس کے نشتر کھاتے ہیں مسجد کے فرشتے انساں کو انسان سے کمتر پاتے ہیں قرآں سے دھواں سا اٹھتا ہے ایمان کا سر جھک جاتا ہے تسبیح سے اٹھتے ہیں شعلے سجدوں کو پسینہ ...

مزید پڑھیے

جلوۂ سحر

تمام اوراق شبنمستان‌ سحر کی کرنوں سے جگمگائے طلوع ہوتی ہے صبح جیسے کلی تمنا کی مسکرائے کہیں درختوں میں غول چڑیا کا بیٹھ کر چہچہا رہا ہے کہیں سے طوطوں کا جھنڈ اٹھا فضائے گلشن میں غل مچائے سڑک جو آتی ہے چھاؤنی سے چہل پہل اس پہ خوب ہی ہے نکل کے گنجان بستیوں سے برائے تفریح سب ہیں ...

مزید پڑھیے

مہاتما گاندھی

شب ایشیا کے اندھیرے میں سر راہ جس کی تھی روشنی وہ گوہر کسی نے چھپا لیا وہ دیا کسی نے بجھا دیا جو شہید ذوق حیات ہو اسے کیوں کہو کہ وہ مر گیا اسے یوں ہی رہنے دو حشر تک یہ جنازہ کس نے اٹھا دیا تری زندگی بھی چراغ تھی تیری گرم غم بھی چراغ ہے کبھی یہ چراغ جلا دیا کبھی وہ چراغ جلا ...

مزید پڑھیے

ساون

کوئل کی سریلی تانوں پر تھم تھم کے پپیہا گاتا ہے حل ہو کے ہوا کی لہروں میں ساون کا مہینہ آتا ہے ٹھنڈی پروا کالا بادل برسا تو برستا جاتا ہے بوندوں کی مسلسل چوٹوں سے پتا پتا تھراتا ہے ایسے میں کوئی یاد آتا ہے ایسے میں کوئی یاد آتا ہے گھنگھور گھٹا بجلی پانی دل سینے میں لہراتا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 335 سے 960