شاعری

کہ میں اندھے خلاؤں سے بنی پاتال کا مقسوم ٹھہری

مگر اے روشنی اے کائناتی روشنی ان سورجوں تاروں زمینوں کہکشاؤں کے لیے دل میں ترا نور محبت ایک جیسا ہے مجھے پاتال سے کھینچا مرا میلا بدن دھویا الوہی گھیر میں لے کر مری ان خشک جھیلوں کو مقدس آنسوؤں سے پھر شناسا کر دیا اے روشنی ان خشک جھیلوں کے کناروں پر تری ہلکی سی شبنم سے ترے شیتل ...

مزید پڑھیے

التباس

ہمیں کس نے دھکیلا اس طرف ان نور برساتی ہوئی نیلی فضاؤں سے عنابی سرخ پھولوں سے اٹی مخمل ردائی سر زمینوں سے کنار آب جو سے وہ جہاں سیال چاندی بہہ رہی تھی ہمیں کس نے جگایا گنگناتے خواب سے جس میں کسی لحن مسلسل کی حسیں تکرار سے میٹھے مدھر نغمے ابھرتے تھے وہ جادو سی جکڑ قدموں میں ...

مزید پڑھیے

صدر دروازے پہ منتظر

جانے کس کی لو کا پرتو پل پل جلتی بجھتی آنکھیں جانے کس کی مدھ بھری مسکان کا حیلہ ڈاواں ڈول لرزتی بستی اک بے انت سا عالم ہے اک پیہم سی گردش ہے اک اندھا سا ہالہ ہے اور ہالے میں گم سم روحیں آگاہی کا بھاری پتھر سر پر اٹھائے عدم آگاہی کے محلوں کے در کھلنے کی آشا باندھے صدیوں سے لائن میں ...

مزید پڑھیے

کہاں

کہاں جا رہے ہو سیہ روشنی کی چکا چوند دھارا کے دوجے کنارے پہ اندھا کنواں اک قدم فاصلہ کہاں جی رہے ہو کھلی آنکھ کے دل نشیں خواب کی ایک تصویر میں جس کی تعبیر ازلوں سے معدوم ہے کہاں ہنس رہے ہو پس قہقہہ آڈیبل رینج سے بھی بہت دور نیچے کراہوں کی لہریں فنا ہو رہی ہیں کہاں دیکھتے ہو ستاروں ...

مزید پڑھیے

دھوپ کی ٹھوکر

نیند میں چلتے چلتے یک دم گر جاتے ہیں اودے پھول شٹالے کے بیر بہوٹی ساون کی دور افق پر ارض و سما کو جوڑنے والی مدھم لائن اور اسے چھونے کی دھن میں ننھے نرم گلابی پاؤں سانول شام پڑے کا منظر پھیلا چاند سمندر سارا بچپن گر جاتا ہے دھوپ کی ٹھوکر رہ جاتی ہے

مزید پڑھیے

آخری سمت میں بچھی بساط

ہمیں ہر کھیل میں ہر بات پر اے مات کے خواہاں کبھی کھینچیں گے ہم باگیں جنونی سر پھری اندھی ہواؤں کی اڑائیں گے فلک پر چاند تاروں سے بنے رتھ کو پھر آئیں گے تجھے ہم راہ کرنے سرمئی دھندلے جزیروں سے سنہری آس رنگی سر زمیں تک نئے مہروں سے پھر اپنا پرانا کھیل کھلیں گے تری ہر مات کی ہر چال ...

مزید پڑھیے

لا تعین

عجب پیڑ تھے وہ کہ چھتنار چھایا بھی جھلسا رہی تھی وہ کیا سرزمیں تھی جو پیڑوں کے نیچے سے کھسکے چلے جا رہی تھی بہت بے تعین سی سمتیں بجھی تھیں نگاہوں کے آگے خلاؤں سی ویراں وہ کوئی فضا تھی کسی حد امکاں کا آغاز تھا یا کسی بے زمانی کی وہ انتہا تھی

مزید پڑھیے

ابدی مسئلہ

کوئی کپڑے پہ بوٹے کاڑھے کوئی پھول بنائے کوئی اپنا بالک پالے کوئی گھر کو سجائے کوئی بس آواز کے بل پر بجھتے دیپ جلائے کوئی رنگوں سے کاغذ اندر جیون جوت جگائے کوئی پتھر اینٹیں جوڑے تاج محل بنائے کوئی منبر اوپر کوکے پاپ اگنی سے ڈرائے کوئی گھنگھرو باندھ کے ناچے انگ کلا دکھلائے کوئی ...

مزید پڑھیے

تفاوت راہ

حسین کافوری انگلیوں میں سفید سگریٹ لیے وہ لڑکی کھڑی کھڑی اپنے شنگرفی نرم ہونٹوں سے یوں لگاتی کہ جیسے جیون کے موم رس کو وہ گھونٹ بھر بھر کے پی رہی ہو مگر طلب کا وصال لب کا یہ لمحہ تیز گام و گریز پا تھا سیاہ ایڑی زمیں پر اس کو بے حسی سے کچل رہی تھی

مزید پڑھیے

پن کشن

مرے پن کشن میں بہت سی پنیں ہیں اور اکثر پنیں اس میں ایسی ہیں جو دور انجانے ملکوں سے آئے خطوں سے نکالی گئی ہیں یہ اس وقت ظاہر حقیقت کی صورت مرے پن کشن میں لگی ہیں اگر پن کشن کی ہر اک پن یہ سوچے کہ میں تو فلاں دیش کی ہوں فلاں دیش نے میرا لوہا جنا تھا فلاں دیش نے میری صورت گڑھی تھی تو یہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 323 سے 960