شاعری

حکایت شب

چنانچہ سر شام ہم سب کسی خاندان فرنگی سے بہر ملاقات نکلے یہاں میرا ''ہم سب'' سے مطلب ہے وہ دوسرے ہم وطن اور پڑوسی کہ جو ملک افرنگ کی اس بڑی جامعہ میں حصول زر علم و دانش کو آئے ہوئے تھے ''کسی'' سے یہ مطلب ہے ہم کو خبر تک نہیں تھی کہ ہم سب کہاں جا رہے ہیں کہاں کس کو کس شخص کی میزبانی ملے ...

مزید پڑھیے

سقوط‌ شادمانی

مسرت کے اس لمحۂ بے کراں میں کہ ہم دونوں لیٹے ہوئے گھاس پر نیلے آکاش کو دیکھتے تھے تمہیں یاد ہوگا کہ تم نے کہا تھا خوشی شادمانی کی کتنی بڑی اور حسیں سلطنت میرے زیر نگیں ہے یہ مخمل سا توشک نما سبزہ ہوا کا یہ کیف خماریں چمکتی ہوئی دھوپ کے گرم پیوست بوسے فلک کی فراخی فضاؤں کا یہ ...

مزید پڑھیے

میری خاک

خاک کو خاک کرنا ضروری ہے گر ایسی مٹی میں مجھ کو ملا کوزہ گر جس سے بچے کا کوئی کھلونا بنے ننھے ہونٹوں پہ جس سے ہنسی سج سکے یا مجھے رکھ کسی چاک پہ اس طرح میری مٹی ملا کر بنے اک دیا جو اندھیرے گھروں میں اجالا کرے اور دئے سے دیا روز جلتا رہے یوں دیا روشنی چاک باقی رہے خاک ہو کر مری خاک ...

مزید پڑھیے

بے یقینی

تمہارے ہی قدموں کی آہٹ ہوئی تھی اچانک تمہاری ہی خوشبو بھی آئی پھر میں نے دستک بھی در پہ سنی تھی اور اپنے ہاتھوں سے کھولا تھا در کو مگر پھر بھی ایسا ہی کیوں لگ رہا ہے کہ کوئی حسیں خواب دیکھا ہے میں نے کئی چٹکیاں لی ہیں اپنے بدن پر یہی دیکھنے کو کہ تم آ گئے ہو

مزید پڑھیے

لمحۂ دلکش

ساتھ خوشبو کے روشنی سمٹی چودھویں شب کی چاندنی سمٹی عکس میرا ہے تیری نظروں میں ایک نقطے پہ زندگی سمٹی تو نے بانہوں میں بھر لیا ایسے بیچ شاخوں کے اک کلی سمٹی اک کرامت سے دل کی دھڑکن میں اک صباؔ خیز دل کشی سمٹی

مزید پڑھیے

کہاں جا رہا ہوں

زمیں پہلے ایسی کبھی بھی نہ تھی پاؤں مٹی پہ ہوتے تھے نظریں افق پر ہمیں اپنے بارے میں معلوم ہوتا تھا ہم کون ہیں اور کیا کر رہے ہیں کہاں جا رہے ہیں مگر آج عالم یہ ہے پاؤں رکتے نہیں آنکھ کھلتی نہیں اجنبی راستوں پر میں بڑھتا چلا جا رہا ہوں

مزید پڑھیے

الفاظ کے تاریک بادل

الفاظ کے جادو سے سحر کاروں نے ہر وقت پتھر کو کبھی شیشہ کبھی آگ کو شبنم نفرت کو محبت کبھی انسان کو حیوان۔۔۔۔۔ حیوان بنایا جس راہ پہ چلتے رہے گمراہ مسافر ان راہوں کو ہر موڑ پہ، بے موڑ پہ اس طرح گھمایا کہ جیسے خلاؤں میں سبھی گھوم رہے ہوں دیوانوں کی مانند گردش نے انہیں اور بھی دیوانہ ...

مزید پڑھیے

منزل کے نام

کیسے کھینچوں تری تصویر تو گم ہے اب تک تجھ کو اے جان جہاں میں نے تو دیکھا بھی نہیں جب کبھی ابر شب مہ میں اڑا جاتا ہے آبشاروں سے صدا آتی ہے چھن چھن کے کہیں یا کبھی شام کی تاریکی میں تنہائی میں جب کبھی جلوہ جھلکتا ہے تری یادوں کا میں سجاتا ہوں خیالوں میں حسیں خواب کوئی سامنے آتی ہے دو ...

مزید پڑھیے

کرائی سس

ندیاں میرے قدموں کے نیچے سے بہتی چلی جا رہی ہیں پہاڑ میرے گھٹنوں اور درخت میرے رونگٹوں پر رشک کر رہے ہیں پھیلی ہوئی زمین پر میں کتنا اونچا ہو گیا ہوں چاند میرے ماتھے پر ہے اور سورج ہاتھوں کا کھلونا ہے خدا میری کھوپڑی کے اندر چمگادڑ کی طرح پھڑپھڑا رہا ہے سمندر میرا پاؤں چوم رہے ...

مزید پڑھیے

ریت کا صحرا

جب ریت کا صحرا دیکھ کے ڈر جاتا ہے ادیب کا سینہ بھی وہ لمحے اکثر آتے ہیں جب ذہن کے سارے پردے اٹکے اٹکے سے رہ جاتے ہیں جب شور مچاتی شاخ زباں سے سارے پرندے مر مر کے گر جاتے ہیں وہ لمحے اکثر آتے ہیں جب آوازوں کے پنجر اپنے سوکھے سوکھے ہاتھ لیے میرے سر پر چھا جاتے ہیں اور میں گھبرا سا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 324 سے 960