شاعری

بھول گئے تم

ہم ہنس کر ہی رہ جاتے ہیں آنسو آ کر رک جاتے ہیں تم چپی سمجھ نہ پاتے ہو ہم چپ ہو کر کہہ جاتے ہیں وہ شور جہاں ہوتی تھی باتیں تبدیل ہو گئی سناٹوں میں میں رات اور تو صبح ہو گیا جو ملتے ہیں بس شاموں میں میں رہ گئی تجھ کو یاد کیے بس جھوٹی ہنسی ٹھہاکوں میں تو ڈوب گیا غم میں کچھ زیادہ کہ ...

مزید پڑھیے

ہمت

سوکھے پتوں میں بھی ہوتی ہے ہلچل بنجر زمین میں بھی ہوتی ہے بستیاں کیوں نا سیکھ میں بھی لوں ان سے ذرا کہ موت ابھی نہیں آئی ہے تمہاری ہار کو تو ہارنا ہے ایک دن تب تک کر لو کوششیں ہزار یوں بیٹھ نہ جانا تھک ہار کر ورنہ ملیں گے طعنے بار بار دھڑکنیں ہیں جب تک سینہ میں تیرے تو رکھتا ہے ...

مزید پڑھیے

برگد کا بوڑھا پیڑ

برگد کا یہ بوڑھا پیڑ جس کے جسم کی کھال تک اب تو سوکھ گئی ہے اس کے سائے میں جانے کتنے رومان پلے ہیں جانے کتنے پیمان بندھے ہیں اس برگد کے پیڑ کو سب ہم راز بنا کر جیون ساتھ نبھانے کا وعدہ کرتے تھے اس برگد کے سائے میں کتنی چھیل چھبیلی سندر ناری میت سے ملنے کی آشا میں پہروں بیٹھی رہتی ...

مزید پڑھیے

سیاہئ شب

سیاہئ شب مجھے کچھ ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ جیسے کوئی سیاہ ناگن کرن کی دہلیز پر کھڑی ہو اگر وہ باہر قدم نکالے تو اس کو ڈس کر ہلاک کر دے کرن اندھیرے سے اتنی خائف کہ جیسے کوئی حسین ہرنی کسی درندے کے ڈر سے جا کر گھنے درختوں میں چھپ گئی ہو وہ خوف سے تھرتھرا رہی ہو کہ جیسے طوفاں سے شاخ ...

مزید پڑھیے

احساس فراق

ماہ و انجم کنول ستارے سنو جب وہ مہ وش نہیں ہے اپنے پاس باد ابر بہار ہے بے کیف چاندنی مضمحل ہے چاند اداس اس کی فرقت کا کس قدر احساس ہلکی ہلکی پھوار سے گویا بھیگتا جا رہا ہے شب کا لباس ہجر کی رات یہ فضائے حسیں اور کچھ بڑھ گئی ہے دل کی یاس اس کی فرقت کا کس قدر احساس مہکی مہکی ہوائیں ...

مزید پڑھیے

کالی دھوپ

سورج آج ہمارے آنگن میں کالی چادر اوڑھے اترا ہے کالی کرنیں اس کی رگ رگ سے پھوٹ رہی ہیں کس بیدردی سے اجیالے کو لوٹ رہی ہے کالی دھوپ کے زہر سے آنگن کے سارے پتے زرد ہوئے ہیں کومل کلیاں سوکھ گئی ہیں نیلے پیلے اودے پھول کجلائے بے رنگ ہوئے ہیں اس کی کالی چادر جب اک دن بوسیدہ ہو جائے ...

مزید پڑھیے

ایک نادان نظم

حبیب جاں تم اگر وبا کے دنوں میں آئے تو بصد عقیدت و محبت تمہارے ہاتھ چوموں گی کیونکہ یہ میرے مسیحا کے ہاتھ ہیں تمہاری چادر کو اپنے ہاتھوں سے تہہ کر کے اپنے سرہانے رکھوں گی کہ اس بکل کی حرارت مجھ پر کشف کے در کھولتی ہے تمہارے جوتوں کو قرینے سے جوڑ کر پلنگ کے پاس رکھوں گی تمہارے ساتھ ...

مزید پڑھیے

ہم تری تکذیب کر سکتے نہیں

اے زمانے ہم تری تکذیب کر سکتے نہیں تو نے ہٹائے پردہ ہائے خوش نما وہ جن کے پیچھے چھپ کے بیٹھی زندگی پہچان بھی پاتے تو کیسے اے زمانے ہم تری تکذیب کر سکتے نہیں کانٹوں پہ تو نے جب گھسیٹا تو سبک پھولوں میں تلنے کی کتابی خواہشوں سے جان چھوٹی اے زمانے تو نے ہم کو تجربہ گاہ نفی میں لا کے ...

مزید پڑھیے

آواز سے باہر

کئی صدیوں سے آوازوں نے روحوں کو بھنبھوڑا ہے سجل احساس کی رگ سے لہو کا آخری قطرہ قرینے سے نچوڑا ہے مرے اگلوں کو مجھ کو گم شدہ خوابوں کی منزل پر بنا آواز جانا ہے صدا کے معبدوں کی تیرگی کو چھوڑ کر پیچھے خلاؤں میں نیا رستہ بنانا ہے

مزید پڑھیے

سفر ندیا کے پانی کو ودیعت ہے

سمندر سر جھکائے با نہیں پھیلائے ہوئے چپ چاپ بیٹھا ہے ابھی کچھ دیر ہی پہلے تلاطم خیز موجیں تھیں زمانہ اس کی ٹھوکر پر سمندر سر جھکائے با نہیں پھیلائے ہوئے چپ چاپ بیٹھا ہے تھکا ماندا کسی ہارے کھلاڑی کی طرح لیکن اچانک ہی کسی مانوس خوشبو نے اسے چونکا دیا ہے سامنے معصوم ندیا سانس ...

مزید پڑھیے
صفحہ 322 سے 960