زہر کا دریا
چلو کہ زہر کے دریا کی سیر کی جائے اسے متھیں اور امرت کی کھوج کی جائے اپنے خود غرض ارادوں کی باٹ بٹ کر کے کائنات اک نئی شروع کی جائے وہ جو دانوؤں کو بھسم کرتی ہو جو دیوتاؤں کو انسان کرتی ہو وہ جس میں شیو کو زہر پینا نہ پڑے وہ کائنات جو سب کو سمان کرتی ہو وہ جس میں بھیس راہو بدل نہ ...