شاعری

زہر کا دریا

چلو کہ زہر کے دریا کی سیر کی جائے اسے متھیں اور امرت کی کھوج کی جائے اپنے خود غرض ارادوں کی باٹ بٹ کر کے کائنات اک نئی شروع کی جائے وہ جو دانوؤں کو بھسم کرتی ہو جو دیوتاؤں کو انسان کرتی ہو وہ جس میں شیو کو زہر پینا نہ پڑے وہ کائنات جو سب کو سمان کرتی ہو وہ جس میں بھیس راہو بدل نہ ...

مزید پڑھیے

پرسش حال کے جواب میں

طویل رات خلوت نیم باز آنکھیں بولتی ہمت یاس تا حد نظر فراق ماضی کی تلخ یادیں فرد بے سلسلہ احساس کمتری زندگی ان سے اوبر پائے تو سوچ پاؤں کہ تم کو جواب کیا دوں

مزید پڑھیے

کار نو

کچھ انتظار اور کرو صبر ناگوار اور کرو کچھ اپنے سروں کو قلم گریباں کو چاک اور کرو اپنے اندر کی گرمیٔ خوں سنبھال کر رکھو اندھیروں میں سخت پہروں میں ذرا یہ جور اور سہو فضا پلٹنے میں جور تھمنے میں وقت ہے شاید صبح ہونے میں وقت ہے یا صرف ایسا لگتا ہے درد سینے میں اٹھ اٹھ کے ناکامیوں کو ...

مزید پڑھیے

زہر کا دریا

چلو کہ زہر کے دریا کی سیر کی جائے اسے متھیں اور امرت کی کھوج کی جائے اپنے خود غرض ارادوں کی باٹ بٹ کر کے کائنات اک نئی شروع کی جائے وہ جو دانوؤں کو بھسم کرتی ہو جو دیوتاؤں کو انسان کرتی ہو وہ جس میں شیو کو زہر پینا نہ پڑے وہ کائنات جو سب کو سمان کرتی ہو وہ جس میں بھیس راہو بدل نہ ...

مزید پڑھیے

رہنے دو مجھے

گزرے ہوئے وقتوں سے نکل کر دیکھا آج کا دور علاحدہ تو نہیں ہے وہ ہی آواز کے سائے وہ ہی بے شرم سراب آج بھی موجود ہیں کل جیسے خراب چہرے ذرا بدلے ہیں نئی بات نہیں ہے مانا بیتے ہوئے کل سے ندامت ہے مجھے ایسا کچھ بھی تو نہیں جس سے عقیدت ہے مجھے ماضی ولے کچھ بھی ہو جینے کا بہانہ ہے مرے اک ...

مزید پڑھیے

شوق سحر

کب تک تیری بجھتی آنکھیں نیندوں سے بوجھل چوکھٹ میں ٹوٹتے تاروں گرتے چناروں کا اجڑا منظر دیکھیں گی یہ چوکھٹ تو گزرے پل کا روپ دکھا کر اس آفاق کی دور افتادہ سیڑھی میں گم ہو جائے گی جس کی آخری کھڑکی پھٹے پرانے کپڑوں کی ٹوٹی دوکان میں کھلتی ہے اس چوکھٹ سے باہر آ کر گھاس پہ ننگے پاؤں ...

مزید پڑھیے

دائرے اور آسمان

ہماری سب لکیریں دائروں میں گھومتی ہیں ہمارے سارے رستے ایک ہی محور کی جانب لوٹ آتے ہیں صبح دم اسپ تازہ کی طرح گھر سے نکل کر دائروں میں دوڑنا اور دن ڈھلے آخر اسی مرکز پہ واپس لوٹ آنا ہی ہماری زندگی ہے ہمیں بس ایک جانب دیکھنے کا حکم صادر ہے ہماری سوچ بینائی مقدر سب انہی رستوں کے قیدی ...

مزید پڑھیے

رنگ بہار

کانپتے ہاتھ مرے ایک دعا کو اٹھے اے خدا آج مرے خواب کی تعبیر ملے یا نہ ملے معجزے ہوں کہ نہ ہوں پھر بشارت نئی صبحوں کی ملے یا نہ ملے اے خدا آج کوئی اچھی خبر شہر آشوب سے اس شہر بتاں تک پہنچے

مزید پڑھیے

آدھا آدمی

آسمانوں سے اتری اجنبی مخلوق یا خود کلامی میں میں ڈوبی صدائے بازگشت ہنستا گاتا پرندہ آوارہ دہکتے خوابوں میں جلتا پیکر یا ادھ کھلے دروازوں سے جھانکتا معصوم بالک بے نام جزیروں کے اندھے کنوؤں سے نکلنے کی کوشش ناکام میں ان دیکھے ہزار جگنوؤں کے تعاقب میں دوڑتا ہانپتا کانپتا آدھا ...

مزید پڑھیے

میراث

مرے گھر کی دیوار پر عہد رفتہ کے رنگین افسانے سجے ہیں مرے اجداد کی ہجرتیں اپنی یادوں کے خوابوں کے ہم راہ کھڑی ہیں مگر میں تو اس دور کا آئنہ ہوں جہاں خواب بنتے ہیں کم اور بکھرتے بہت ہیں جہاں لوگ بس عہد رفتہ میں جینے کا گر جانتے ہیں میں باسی ہوں اس گاؤں کا جس کے راکھے خود اپنے گوالوں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 312 سے 960