شاعری

آؤ مری سہیلی

کس بات کا ہے غصہ کچھ تو بتاؤ قصہ بیٹھی ہو کیوں اکیلی آؤ مری سہیلی بکھرے یہ بال کیوں ہیں آنکھیں بھی لال کیوں ہیں کیوں ہو بنی پہیلی آؤ مری سہیلی ٹافی تمہیں کھلاؤں جھولا تمہیں جھلاؤں چلنا مری حویلی آؤ مری سہیلی اب ہنس بھی دو ذرا سا لائے ہیں میرے پیارے گڑیا نئی نویلی آؤ مری سہیلی

مزید پڑھیے

ایک سوال

ابو میرے پاس تو آنا اتنی بات مجھے سمجھانا ہم جب آپس میں لڑتے ہیں آپ ہمیشہ یہ کہتے ہیں لڑنا بھڑنا ٹھیک نہیں ہے جھگڑا کرنا ٹھیک نہیں ہے اچھے بن کر جینا سیکھو مل جل کر تم رہنا سیکھو میں نے اخباروں میں پڑھا ہے ٹی وی پر بھی اتنا سنا ہے دنیا میں پھر اک جنگ ہوگی کھلیں گے سب خون کی ...

مزید پڑھیے

دستک

حالات کے کالے بادل نے مرے چھت کے چاند کو گھیر لیا تدبیر ہو ممکن خاک کوئی کہ باہر رقصاں تاریکی اور اندر پھیلی تنہائی دروازے پر دستک دے کر آلام کی وحشت ہنستی ہے اور سرگوشی میں کہتی ہے کہ اب کیسے بچ پاؤ گے میری تشنہ بے باکی سے کس سے باتیں کر کے مجھ کو اب تم دھوکے میں رکھوگے

مزید پڑھیے

وصالیہ

دھرتی سلگ رہی تھی آکاش جل رہا تھا بے رنگ تھیں فضائیں موسم بدل رہا تھا خوشبو مرے بدن کو گلزار کر رہی تھی وہ کیف بے خودی میں کلیاں مسل رہا تھا کروٹ بدل رہے تھے ارمان میرے دل کے جب چاندنی کا منظر دریا میں ڈھل رہا تھا جلووں کا رقص میں نے مستانہ وار دیکھا بنت عنب کا جانے دل کیوں مچل رہا ...

مزید پڑھیے

کہانی

سنو تم لکھ کے دے دو نا کہانی میں کہاں سچ ہے کہاں پہ رک کے تم نے غالباً کچھ جھوٹ لکھنا ہے کہاں ایسا کوئی اک موڑ آنا ہے جہاں چالان ممکن ہے کہاں وہ بیش قیمت سا سنہری چھوٹا سا ڈبہ جو اپنی دھڑکنوں سے اپنے ہونے کی گواہی دے رہا ہے ٹوٹ جانا ہے کہاں قاری کو سمجھانا ہے دکھ کے اس الاؤ میں ...

مزید پڑھیے

بابا

تمہاری جانب دعا کے موتی روانہ کرتے دکھا یہ سکتے کہ لاڈلی کی سنہری آنکھیں بھری ہوئی تھیں وہ ایک چٹھی کہ جس میں خود کو دلاسہ دیتے بلک رہی تھی وہ بکھرے صفحات ڈائری کے کہ جن میں تم پر لکھی تھیں نظمیں بھرے تھے اشعار کیسے بھیجیں کہ تم تو مٹی کے گھر میں جا کے بسے ہوئے ہو زمین والوں کو آ ...

مزید پڑھیے

اب دھوپ چڑھی دیواروں پر

اب وقت سفر آ پہنچا ہے آ مل بیٹھیں دو چار گھڑی جب پہلے پہل تم آئے تھے آغاز سحر کا میلہ تھا کچھ کرنیں مدھم مدھم تھیں کچھ اجلا اجلا دھندلکا تھا کچھ ایسی امنگیں تھیں دل میں جو سرکش بھی معصوم بھی تھیں کچھ ہستی بولتی نظریں تھیں جو شوخ بھی بے مفہوم بھی تھیں سورج کی ابھرتی کرنیں بھی یوں ...

مزید پڑھیے

خدا خفا ہے

زمیں تھک گئی تھی ہمارے گناہوں کے سب بوجھ ڈھوتے ہوئے سو ابلنے لگی اور ہم بس یہی سوچتے رہ گئے کہ خدا ہم سے ناراض ہے

مزید پڑھیے

بس یہی کہہ سکے

ہم تیرے سامنے بے بسی کی حدوں سے نکلتے ہوئے بس یہی کہہ سکے اپنے پیاروں سے ایسا رویہ مناسب نہیں

مزید پڑھیے

خواب

دل کو سانسوں نے خستہ کیا دھندلے ہو گئے آنکھ کے آئنے اس لیے یہ زمیں مسکراتے ہوئے ہانپتی کانپتی دکھ رہی ہے شب کے پچھلے پہر چھوٹنے والی اس ریل کی آخری سیٹیاں یاد کی گٹھڑیاں اور دل جیسے روشن علاقے میں گہرا اندھیرا سماعت پہ تاریکیوں کا بنا ایک جالا گماں ہو رہا ہے کہ تصویریں گیلی پڑی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 300 سے 960