شاعری

ہوا لوٹے تو پوچھیں

روز و شب کا وقفہ کرب و مسرت شام کہتے ہیں جسے کیوں کر گزاریں قرض سانسوں کا اتاریں یا رخ ہستی نکھاریں کون ہے دل کے سوا اس کرب راز پیکراں میں اپنے ساتھ اب کسے آواز دیں کس کو پکاریں شام بھر کی فرصت غم یوں گزاریں دھول میں اٹے ہوئے اک راستے پر ایک گوشے کے خلا میں کائنات آباد ہے اک چائے ...

مزید پڑھیے

الفت کا شکوہ

تری دنیا میں رہ کر کیا کریں گے خدایا عمر بھر رویا کریں گے محبت کا گلہ الفت کا شکوہ پتہ کیا تھا کہیں ایسا کریں گے رہی جب نہ خوشی کی زندگی گر پھر ایسی زندگی کو کیا کریں گے لٹا تھا قافلہ دل کا ہمارا ملے گا کیا جو ہم چرچا کریں گے جگر میں درد لب پر ہائے ہائے بھلا اس طرح جی کر کیا کریں ...

مزید پڑھیے

شب ہجراں

سوزش غم کا بیاں لب پہ نہ لاؤں کیونکر درد ہے حد سے سوا دل میں چھپاؤں کیونکر تو یہیں دوست مرے غم کا مداوا کر دے چوٹ جو دل پہ لگی ہے وہ دکھاؤں کیونکر کیسے دہراؤں غم زیست کے افسانے کو سننے والا نہ کوئی ہو تو سناؤں کیونکر روشنی ہوتی نہیں میرے سیہ خانے میں شمع دل اب شب ہجراں میں جلاؤں ...

مزید پڑھیے

بحر غم کا کنارا

سب نے مجھ سے کیا ہے کنارا صرف تیرا ہے یا رب سہارا اشک غم یوں ہی بہتے رہیں گے یا رکے گا کبھی غم کا دھارا میری کشتی ہے طوفاں کی زد میں مل گیا بحر غم کا کنارا ضبط کی بھی کوئی انتہا ہے میں کہاں تک کروں غم گوارہ سوئے منزل بڑھی ہوں میں یا رب تیری رحمت کا لے کر سہارا کس طرح حال دل کا ...

مزید پڑھیے

پاس وفا

دل ہے رنجور یہاں ہے یہ دستور یہاں رہرو آتے ہیں یہاں لوٹے جاتے ہیں یہاں نہ کوئی پاس وفا اور نہ احساس وفا کرتے ہیں جور و جفا ظلم ہے ان کو روا کچھ بھروسہ ہی نہیں کوئی اپنا ہی نہیں اجنبی بن کے رہیں ہر جفا دل پہ سہیں روز بیداد نئی روز افتاد نئی کیا کریں حال بیاں بیکسی کا ہے سماں حال دل ...

مزید پڑھیے

دل مایوس

دل مایوس بتا اے دل ناکام بتا مبتلائے ستم گردش ایام بتا جی کے میں کیا کروں دنیا میں مرا کام ہے کیا خون امید کا ہوتا ہے سر بزم طرب بن گیا حوصلہ غم ہی مصیبت کا سبب جی کے میں کیا کروں دنیا میں مرا کام ہے کیا درد بڑھ جائے اگر چارہ گری کون کرے ہے کٹھن راہ وفا راہبری کون کرے جی کے میں کیا ...

مزید پڑھیے

بیکس انساں

فٹ پاتھ پہ اک بیکس انساں تکلیف میں تڑپا کرتا ہے دنیا میں کوئی غم خوار نہیں مجبور ہے آہیں بھرتا ہے برسات ہو یا جاڑا گرمی ہر موسم ایک گزرتا ہے احساس نہ کپڑوں کا تن پر بس بھوک کے مارے مرتا ہے انبار پہ کوڑے کے جا کر وہ پیٹ کا دوزخ بھرتا ہے پھر بھی تجھ پہ جاں دیتا ہے پھر بھی تیرا دم ...

مزید پڑھیے

میری تصویر

مری تصویر لے کر کیا کرو گے مری تصویر اک خواب پریشاں چھپے ہیں اس میں لاکھوں غم کے طوفاں مری تصویر لے کر کیا کرو گے مری تصویر ہے مایوس و مضطر میری تصویر رنج و غم کا پیکر یہ اک دن بار ہو جائے گی تم پر مری تصویر لے کر کیا کرو گے مری تصویر میں کب زندگی ہے سراپا غم سراپا بیکسی ہے جبیں روشن ...

مزید پڑھیے

بیتے ہوئے دن

برسات کی بہارو مجھ کو نہ اب ستاؤ جو خود ہی مٹ رہا ہے اس کو نہ تم مٹاؤ اے موسم نگاراں اے ابر نو بہاراں ایسے میں یاد ان کی مجھ کو نہ تم دلاؤ بچھڑے ہوئے کسی سے مدت گزر چکی ہے ماضی کے حادثوں کے قصے نہ تم سناؤ بیتے ہوئے دنوں کی یادیں بھلا چکی ہوں بیتے ہوئے دنوں کو پھر سامنے نہ لاؤ دل میں ...

مزید پڑھیے

اشک بہایا میں نے

گوشۂ دل میں تیرا درد چھپایا میں نے چشم تر کو بھی نہ یہ راز بتایا میں نے کون وہ شب ہے جو بے اشک بہائے گزری کون وہ غم ہے جو دل پر نہ اٹھایا میں نے کی زمانے سے کبھی کوئی شکایت نہ گلہ اپنے رستے ہوئے زخموں کو چھپایا میں نے اب تو دم ضبط کی شدت سے گھٹا جاتا ہے اس قدر درد کو سینے میں دبایا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 301 سے 960