مگرمچھ نے مجھے نگلا ہوا ہے
مگرمچھ نے مجھے نگلا ہوا ہے اک جنین ناتواں ہوں جس گھڑی رکھی گئی بنیاد میری اس گھڑی سے تیرگی کے پیٹ میں ہوں خون کی ترسیل آنول سے غذا جاری ہے کچی آنکھ کے آگے تنی موہوم سی جھلی ہٹا کر دیکھتا ہوں! دیکھتا ہوں گرم گہرے لیس کے دریا میں کچھووں، مینڈکوں جل کیکڑوں کے پارچوں میں اوجھڑی کے ...