شاعری

مگرمچھ نے مجھے نگلا ہوا ہے

مگرمچھ نے مجھے نگلا ہوا ہے اک جنین ناتواں ہوں جس گھڑی رکھی گئی بنیاد میری اس گھڑی سے تیرگی کے پیٹ میں ہوں خون کی ترسیل آنول سے غذا جاری ہے کچی آنکھ کے آگے تنی موہوم سی جھلی ہٹا کر دیکھتا ہوں! دیکھتا ہوں گرم گہرے لیس کے دریا میں کچھووں، مینڈکوں جل کیکڑوں کے پارچوں میں اوجھڑی کے ...

مزید پڑھیے

کیک کا ایک ٹکڑا

کہنہ تر زین بدلی گئی پھر نئی نعل بندی ہوئی اور فرس ہنہنایا سوار اب سواری پر مجبور تھا میں اکیلا عزا دار کتنے یگوں سے اٹھائے ہوئے جسم کا تعزیہ خود ہی اپنے جنم دن پہ مسرور تھا کپکپاتی چھری کیک کو وسط تک چیر کر رک گئی دل لرزنے لگا ضعف کی ماری پھونکوں نے ایک ایک کر کے بھڑکتی لوؤں کو ...

مزید پڑھیے

گنبد نما شفاف شیشہ

گنبد نما شفاف شیشہ محدب بیچ سے ابھرا ہوا گنبد نما شفاف شیشہ جس میں سے چیزیں بڑی معلوم ہوتی ہیں یہ دیکھو ایک چیونٹی ہشت پا مکڑے کی صورت چل رہی ہے اوس کا قطرہ مصفا حوض کے مانند ساکن لگ رہا ہے ریت کا ذرہ پہاڑی کی طرح افلاک کو چھوتا ہوا محسوس ہوتا ہے گھنے پانی میں جرثومے کی جنبش ...

مزید پڑھیے

کہیں تم ابد تو نہیں ہو

کہو کون ہو تم ازل سے کھڑے ہو نگاہوں میں حیرت کے خیمے لگائے افق کے گھنے پانیوں کی طرف اپنا چہرہ اٹھائے کہو کون ہو تم بتاؤ بتاؤ کہیں تم طلسم سماعت سے نا آشنا تو نہیں ہو کہیں تم وہ در تو نہیں ہو جو صدیوں کی دستک سے کھلتا نہیں یا قدیمی شکستہ سی محراب ہو جس میں کوئی چراغ رفاقت بھی جلتا ...

مزید پڑھیے

لال بیگ اڑ گیا

طعام گاہوں کی بچی کھچی غذا پہ پل رہا تھا نم زدہ شگافوں گھن لگے درازوں میں چھپا ہوا وہ مطمئن تھا غیر مرئی نالیوں سے مین ہول تک غلاظتیں بہا کے لانے والی سست و تیز ساری لائنوں میں گھومتا تھا ایک روز ہست کی گرہ میں اس کی لانبی ٹانگ اک انوکھے پیچ میں الجھ گئی تو ٹیس درد کی اٹھی وجود ...

مزید پڑھیے

عجب پانی ہے

عجب پانی ہے عجب ملاح ہے سوراخ سے بے فکر آسن مار کے کشتی کے اک کونے میں بیٹھا ہے عجب پانی ہے جو سوراخ سے داخل نہیں ہوتا کوئی موج نہفتہ ہے جو پیندے سے کسی لکڑی کے تختے کی طرح چپکی ہے کشتی چل رہی ہے سر پھری لہروں کے جھولے میں ابھی اوجھل ہے جیسے ڈوبتی اب ڈوبتی ہے جیسے بطن آب سے جیسے ...

مزید پڑھیے

سواری اونٹ کی ہے

سواری اونٹ کی ہے اور میں شہر شکستہ کی کسی سنساں گلی میں سر جھکائے ہاتھ میں بد رنگ چمڑے کی مہاریں تھام کر اس گھر کی جانب جا رہا ہوں جس کی چوکھٹ پر ہزاروں سال سے اک غم زدہ عورت مرے وعدے کی رسی ریشۂ دل سے بنی مضبوط رسی سے بندھی ہے آنسوؤں سے تر نگاہوں میں کسی کہنہ ستارے کی چمک لے ...

مزید پڑھیے

درد ہوتا ہے

بہر کیف جو درد ہوتا ہے وہ درد ہوتا ہے ایڑی میں کانٹا چبھے تو بدن تلملاتا ہے دل ضبط کرتا ہے روتا ہے جو برگ ٹہنی سے گرتا ہے وہ زرد ہوتا ہے چکی کے پاٹوں میں دانے تو پستے ہیں پانی سے نکلے تو مچھلی تڑپتی ہے طائر قفس میں گرفتار ہوں تو پھڑکتے ہیں بادل سے بادل ملیں تو کڑکتے ہیں بجلی چمکتی ...

مزید پڑھیے

جھلملاتی ہوئی نیند سن

اے چراغوں کی لو کی طرح جھلملاتی ہوئی نیند، سن میرا ادھڑا ہوا جسم بن خواب سے جوڑ لہروں میں ڈھال اک تسلسل میں لا نقش مربوط کر نرم، ابریشمیں کیف سے میری درزوں کو بھر میری مٹی کے ذرے اٹھا میری وحشت کے بکھرے ہوئے سنگ ریزوں کو چن اے چراغوں کی لو کی طرح جھلملاتی ہوئی نیند، سن میرا ...

مزید پڑھیے

مجھ سا مبہوت عاشق

کیسی مخلوق تھی آگ میں اس کا گھر تھا الاؤ کی حدت میں مواج لہروں کو اپنے بدن کی ملاحت میں محسوس کرتی تھی لیکن وہ اندر سے اپنے ہی پانی سے ڈرتی تھی کتنے ہی عشاق اپنی جوانی میں پانی میں اک ثانیہ اس کو چھونے کی خواہش میں نیچے عمق میں بہت نیچے اترے مگر پھر نہ ابھرے سمندر نے منتھن سے ان کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 299 سے 960