شاعری

پاسبان اردو

کہیں نہ کیوں اے قوی تجھے ہم بصدق‌ دل پاسبان اردو بنا ہے تیری ہی سعی و کاوش سے سیفیہ گلستان اردو نفس نفس میں ترے یقیناً بسی ہے بوئے زبان اردو تری نوا ہے نوائے اردو ترا بیاں ہے بیان اردو دکھائیں بھوپال کو ترے ہی جنوں نے جہد‌ و عمل کی راہیں وگرنہ مایوس ہو چکے تھے یہاں کے چارہ گران ...

مزید پڑھیے

سیاست

مکدر ہے فضائے عالم امکاں سیاست سے بہت بے آبرو ہے آج کل انساں سیاست سے ضمیر و ظرف کی اس کے یہاں قیمت نہیں کوئی جہاں میں در بدر ہیں صاحب ایماں سیاست سے یہ احساسات تہذیب و تمدن کو مٹاتی ہے سیاست آج کل کی کیسے کیسے گل کھلاتی ہے نہیں شیوہ سیاست کا محبت اور رواداری سکھاتی ہے پرستاروں کو ...

مزید پڑھیے

ایک چھوٹی سی نظم

میں نے اپنے آپ کو کنویں میں ڈھکیلا اور قہقہے لگائے کیوں کہ میں نہیں جانتا تھا کہ یہ ایسا کنواں ہے جس سے نکلنا ممکن نہیں میں سمجھتا تھا کہ میں نے ایک بہت بڑا کارنامہ انجام دیا ہے اب میرے قہقہوں کو لوگ سنتے ہیں اور ان کی آنکھوں سے آنسو بہتے ہیں

مزید پڑھیے

یافت اور نایافت کا مسئلہ

یافت اور نایافت میں الجھے ہوئے یہ سوچتے رہتے ہیں ہم اکثر کہ پانا آپ اپنے کو نہیں آساں مہد سے تا لحد ہم ڈھونڈتے رہتے ہیں خود کو کون جانے کب ہماری یافت کا لمحہ کسی پارس کی صورت ہم سے ٹکرائے نہ جانے کب ہم اپنے آپ کو پا لیں مگر یہ بھی ضروری تو نہیں ہوگا کہ پھر سے گم نہ کر دیں خود کو اس ...

مزید پڑھیے

ادھوری آرزو

کبھی میں سوچتا ہوں خول سے اپنے نکل کر اک پرندے کی طرح بادل کو چھو لوں یا کبھی جھرنے میں بچوں کی طرح کلکاریاں بھر کر اچھالوں آپ اپنے جسم پر پانی کبھی جا کر سمندر کے کنارے ریت پر لیٹوں گھروندے ریت کے تعمیر کر کے ایک ٹھوکر سے گرا دوں یا کسی مصروف سی شہہ راہ پر جاؤں وہاں چیخوں ہنسوں ...

مزید پڑھیے

سمندر آج چپ ہے

سمندر آج چپ ہے کوئی ہلچل ہی نہ لہروں کا ترنم ایک سناٹا ہوا بھی سرسرانا بھول کر ہے دم بخود سی جھاگ بھی اڑنا مچلنا بھول کر چپ چاپ لپٹا ہے چٹانوں سے یہ خاموشی کسی طوفان کی آمد کا شاید پیش خیمہ ہے فضا کی صد ہزار آنکھیں ہیں لبریز آنسوؤں سے جو ٹپک پڑتے ہیں شبنم بن کے اور پھر جذب ہو جاتے ...

مزید پڑھیے

رنگ لہو کا

آخر کب تک دور چناروں کے پیچھے ٹھٹھری اکڑی ایک معصوم سی چنری ہے جس کے رنگوں میں اب تک بھی وہی تازگی وہی دمک اور وہی پھبن ہے ہاں اس چنری کے رنگوں کے بیچ میں اک اور رنگ نے مسکن بنا لیا ہے رنگ لہو کا جو چنری سے رستا رستا برف کے ذروں میں گھل مل کر تھم سا گیا ہے جم سا گیا ہے جیسے آنسو اور ...

مزید پڑھیے

حسرت پرواز

آغوش احتیاط میں رکھ لوں جگر کہیں ڈرتا ہوں لے اڑے نہ کسی کی نظر کہیں غربت میں اجنبی کا بھی ہوتا ہے گھر کہیں دن بھر کہیں گزار دیا رات بھر کہیں اغیار ہوں کہیں بت شوریدہ سر کہیں سب کچھ ہو آہ میں تو ہو اپنی اثر کہیں یوں اف نہ باغ دہر میں برباد ہو کوئی بلبل کا آشیاں ہے کہیں بال و پر ...

مزید پڑھیے

تخلیق

یہ کاغذ پر مرے دل کا لہو ہے یہ نظمیں خون سے لکھی ہیں میں نے یہ یادیں ہیں مرے بیتے دنوں کی یہ سرمایہ ہے میری زندگی کا ہے لفظوں میں مقفل روح میری جو میرے بعد بھی زندہ رہے گی مری تخلیق پایندہ رہے گی

مزید پڑھیے

نغمۂ دل سوز

ہے مزاج اس وقت کچھ بگڑا ہوا صیاد کا اے اسیران قفس موقع نہیں فریاد کا کتنا درد آمیز تھا نغمہ دل ناشاد کا تیر ترکش میں تڑپ اٹھا ستم ایجاد کا داستان‌ عالم فرقت کسی سے کیا کہیں ہو گیا برباد ہر ذرہ دل ناشاد کا آپ کو ملنا نہیں منظور لو مرتا ہوں میں منتظر بیٹھا ہوا تھا آپ کے ارشاد ...

مزید پڑھیے
صفحہ 289 سے 960