شاعری

عرفان

رات اماوس کی تھی میں نے ناگ پھنی کے اک کانٹے پر ایک پل کے سوویں حصے تک سورج کو روشن دیکھا تھا پھیل گیا میری آنکھوں میں سو راتوں کا گھور اندھیرا اور مجھے محسوس ہوا یوں گھور اندھیرے کے سینے میں میں بجلی کا اک کوندا ہوں

مزید پڑھیے

جواں مرگ کا نوحہ

ہمیں جوانی میں موت آئے گی بھیگتے تکیے کے سرد سینے پہ اپنی سانسوں میں گرم بانہوں کی پیاس لے کر سلگنے والی ہر ایک دوشیزہ جانتی ہے کہ آنکھ جب خواب کے صحیفے کو چاٹ لے گی تو نوح کیپسول سے پکارے گا پیارے بیٹے، اماں میں آؤ لو، میں نے جو قبر عمر کے بیلچے سے اپنے لئے بنائی ہے اس کی رانوں ...

مزید پڑھیے

کس کے شعروں میں کس کی باتیں ہیں

میری لکھنے میں عمر گزری ہے تیری پڑھنے کی عمر ہے لڑکی تیری سوچوں کی سب خبر ہے مجھے مجھ پہ یہ وقت آ کے بیت چکا میں بھی خود سے سوال کرتا تھا کس کی غزلوں میں کس کے جلوے ہیں کس کا چہرہ ہے کس کی نظموں میں کون روتا ہے کس کے لہجے میں کس کے شعروں میں کس کی باتیں ہیں پھر جوابات مل گئے مجھ کو اب ...

مزید پڑھیے

کون زنجیر توڑ سکتا ہے

کون زنجیر توڑ سکتا ہے کس میں ہمت ہے تم سے لڑنے کی کس میں جرأت ہے سر اٹھانے کی کون باغی تمہاری ذات سے ہو کس ستم گر کو جان پیاری نہیں جان ہے تو جہان ہے پیارے لوگ زندہ رہیں گے لالچ میں کہ کسی روز وقت آئے گا ایک لشکر مسرتوں کا لیے اور تہ تیغ کر کے رکھ دے گا غم کی فوجوں کو قہر کے دل کو اور ...

مزید پڑھیے

غم

رات ویران ہے بہت ویران آسماں لاش ہے جلی ہوئی لاش جس کے سینے پہ چیونٹیوں کی طرح ایک انبوہ ہے ستاروں کا رزق چنتے ہیں اور کھاتے ہیں خامشی سے گزرتے جاتے ہیں ہائے یہ رات ہائے ہائے یہ رات کب بسر ہوگی کیسے گزرے گی کوئی دیکھے مری نظر سے اسے کوئی چارہ مجھے بتائے مرا کچھ علاج اس نظر کا کوئی ...

مزید پڑھیے

بے زباں اردو

ہوئی جاتی ہے نذر شورش آہ و فغاں اردو کہے کس سے یہاں اپنے غموں کی داستاں اردو معاذ اللہ ہے دام ہوس میں قید برسوں سے کہاں سے ڈھونڈ کے لائے اب اپنا مہرباں اردو اجازت لب کشائی کی نہ حق فریاد کرنے کا خود اپنے ہی وطن میں ہو گئی ہے بے زباں اردو وہی کرتے ہیں کوشش آج اردو کو مٹانے کی سکھاتی ...

مزید پڑھیے

عورت

دنیا کے لئے تحفۂ نایاب ہے عورت افسانۂ ہستی کا حسیں باب ہے عورت دیکھا تھا جو آدم نے وہی خواب ہے عورت بے مثل ہے آئینہ آداب ہے عورت قائم اسی عورت سے محبت کی فضا ہے عورت کی عطا اصل میں احسان خدا ہے ہے ماں تو دل و جاں سے لٹاتی ہے سدا پیار ممتا کے لئے پھرتی ہے دولت سر بازار آسان بناتی ہے ...

مزید پڑھیے

قطب مینار

اے قطب مینار اے بھارت کی عظمت کے نشاں ہر گھڑی سایہ فگن رہتا ہے تجھ پر آسماں تیرے ہر اک سنگ میں پنہاں ہے تیری داستاں دیدۂ حیرت سے تکتے ہیں تجھے اہل جہاں سر بلندی پر تری ہم ہندیوں کو ناز ہے تو ہماری خوش نما تاریخ کا غماز ہے تیرا مسکن ارض دلی رشک حسن کوہ قاف چاند سورج روز تیرے گرد ...

مزید پڑھیے

میرا وطن

جہاں کا چپہ چپہ گلستاں ہے جہاں کی سر زمیں رشک جناں ہے تصدق جس پہ حسن آسماں ہے ہمالہ جس کی عظمت کا نشاں ہے جہاں گنگا جہاں جمنا رواں ہے وہی میرا وطن ہندوستاں ہے جہاں رنگین ہوتی ہیں فضائیں بسی رہتی ہیں خوشبو میں ہوائیں دکھاتے ہیں پہاڑ اور بن ادائیں جہاں جھرنے کی موجیں گنگنائیں جہاں ...

مزید پڑھیے

رام

آئینۂ خلوص و محبت یہاں تھے رام امن اور شانتی کی ضمانت یہاں تھے رام سچائیوں کی ایک علامت یہاں تھے رام یعنی دل و نگاہ کی چاہت یہاں تھے رام قدموں سے رام کے یہ زمیں سرفراز ہے ہندوستاں کو ان کی شجاعت پہ ناز ہے ان کے لئے گناہ تھا یہ ظلم و انتشار ایثار ان کا سارے جہاں پر ہے آشکار دامن ...

مزید پڑھیے
صفحہ 288 سے 960