ادھوری آرزو

کبھی میں سوچتا ہوں
خول سے اپنے نکل کر
اک پرندے کی طرح
بادل کو چھو لوں
یا کبھی جھرنے میں بچوں کی طرح
کلکاریاں بھر کر
اچھالوں آپ اپنے جسم پر پانی
کبھی جا کر سمندر کے کنارے
ریت پر لیٹوں
گھروندے ریت کے تعمیر کر کے
ایک ٹھوکر سے گرا دوں
یا کسی مصروف سی شہہ راہ پر جاؤں
وہاں چیخوں ہنسوں گاؤں
کبھی فٹ پاتھ پر رک کر
دہی کے گول گپے کھا کے چٹخارے بھروں
یا پھر ادب اور شعر کی کوئی ثقہ محفل میں جاؤں
اور وہاں کھلی اڑاؤں
جب مجھے سب چونک کر حیرت سے گھوریں تو
خوشی سے جھوم جاؤں
اپنے ہونٹوں سے ہنسی کا ایک فوارہ اڑا کر
بھاگ نکلوں
ہاں مگر ان میں سے کوئی بات بھی ممکن نہیں ہے
کیوں کہ
میں تو اپنے خول میں
محصور رہتا ہوں
ہمیشہ قید رہتا ہوں