تاریکیوں کا حساب
نیم خوابیدہ بوجھل سبک سر ہوا شب کی آغوش میں دفعتاً جاگ اٹھی کسمساتی ہوئی سر اٹھا کے چلی شب کی آغوش سے سرد بوجھل ہوا لڑکھڑا کے چلی بے خطر بے حذر چور نشے میں یک چشم عفریت شب آنکھ کی سرخ گولائی روشن کئے ہے ہوا کے تعاقب میں ہر موڑ پر کون روکے اسے کون ٹوکے اسے ہیں تضادوں کے آسیب اس ...