شاعری

تاریکیوں کا حساب

نیم خوابیدہ بوجھل سبک سر ہوا شب کی آغوش میں دفعتاً جاگ اٹھی کسمساتی ہوئی سر اٹھا کے چلی شب کی آغوش سے سرد بوجھل ہوا لڑکھڑا کے چلی بے خطر بے حذر چور نشے میں یک چشم عفریت شب آنکھ کی سرخ گولائی روشن کئے ہے ہوا کے تعاقب میں ہر موڑ پر کون روکے اسے کون ٹوکے اسے ہیں تضادوں کے آسیب اس ...

مزید پڑھیے

زرد سورج

مہیب روحوں کے قہقہوں سے مآثر جاں لرز اٹھے ہیں لہو کی رفتار زہر قاتل کی دھار بن کر دل کی گہرائیوں میں پیہم اتر رہی ہے ہڈیاں آگہی کی بیدار آگ میں پھر پگھل رہی ہیں حیات سے بے خبر فضاؤں میں جسم تحلیل ہو رہا ہے شب سیہ کے ڈراؤنے فاصلوں سے لٹکی ہوئی شپرہ چشم آرزوئیں یہ چاہتی ہیں کہ ...

مزید پڑھیے

نوح کے بعد

نقطۂ صفر پر وقت کا پاؤں تھا زد میں سیلاب کی جب ہر اک گاؤں تھا نوح نے اپنی کشتی کو تخلیق کی جملہ انواع سے بھر لیا ربع مسکوں کے سیلاب پر اپنی کشتی لیے کوہ جودی کی چوٹی کو سر کر لیا نوح کے واسطے جس پرندے کی منقار میں برگ زیتون تھا وہ امید مسلسل کا قانون تھا ہم جو کشتی سے اور برگ ...

مزید پڑھیے

ریزۂ وجود

مرے وجود کا مکان خار دار تار کا حصار جس کے ارد گرد آدمی کا خون پینے والی زرد جھاڑیوں کے خار دار ہات ہیں مری زمیں کے ارد گرد کہکشاں کے خار دار دائروں کا رقص ہے زمیں سے آسمان تک وجود اپنے ان گنت حواس کا گناہ ہے شعور و لمس و لذت و مقام کے سراب ہیں میں پوچھتا ہوں سنگ میں گداز پنبہ ...

مزید پڑھیے

وہ اور میں

حیات ایک حیرت سے پھیلی ہوئی آنکھ ہے جس کی پلکوں کو باہم ملے مدتیں ہو چکی ہیں قرنوں سے یوں ہی مسلسل خلاؤں میں تکتی چلی جا رہی ہے مناظر نگلتی چلی جا رہی ہے کہیں دور حیرت سے پھیلی ہوئی آنکھ کے پار چہرہ ہے بے خال بے چشم بے انت چہرہ چہرے کے معصوم مرمر سے رخسار پر جگمگاتا ہوا اشک میں ...

مزید پڑھیے

معنی کی تلاش میں مرتے لفظ

صحن میں پھیلی ہے تلخ تر رات کی رانی کی مہک کمرۂ حیرت میں خواب کی شہزادی بال بکھرائے مرے سینے پر کب سے اک خواب ابد میں گم ہے لمس کی آنکھوں میں قوس در قوس طلسمات عجب زندہ ہیں جھڑ چکا ہے لیکن جسم کی شاخ سے چہرے کا پھول زیست کے جوہڑ میں خواہش دریا کے ایک امر لمحے کو سوچنے کی یہ سزا کچھ ...

مزید پڑھیے

زوال کے آئینے میں زندہ عکس

جھٹپٹے کے شہر میں بیگانگی کی لہر میں معدوم ہوتی روشنی کے درمیاں زیست کے پاؤں تلے آئے ہوئے لوگ ہیں یا چیونٹیاں تن بدن کی رحل پر مہمل کتابیں زرد چہروں کی کھلیں منظروں کی کھوجتی بینائیاں معذور ہیں یاد رکھنے کی تمنا بھولنے کی آرزو حافظے کی بند مٹھی میں ٹھہرتا کچھ نہیں ہر قدم خواب و ...

مزید پڑھیے

ڈوبتے سورج کی سرگوشی

ڈھیر کر چیوں کے آنکھ میں ہیں لیکن آئنے کا نوحہ ہر کسی قلم کی دسترس سے باہر روشنی کے گھر میں تیرگی کا پتھر کس طرف سے آیا کون ہے وہ آخر جو پس تماشا مسکرا رہا ہے اک سوال ہوتی ہے زندگی نگر کی سرخیاں خبر کی کھوجتی ہے لیکن خواب کے سفر کی ساعتوں پہ قدغن سوچ رہن سر ہے نیند کی سحر جو قریۂ ...

مزید پڑھیے

تضادوں سے عبارت

دکھوں کے خیمے میں بیٹھ کر نارسا خوشی کی خوشی میں ہنسنا طویل و انجان ہجر کی خار زار پگڈنڈیوں پہ چلتے وصال لمحوں کی خوشبوؤں میں رچی کوئی نظم کہہ کے رونا حواس کی دسترس میں ہونا کبھی نہ ہونا انہیں تضادوں سے ذات کے ہاتھ کی لکیروں میں رمز معنی انہی پہ قائم مرے تفکر کے سلسلے سب کلام و ...

مزید پڑھیے

ادھوری نسل کا پورا سچ

عمر کا سورج سوا نیزے پہ آیا گرم شریانوں میں بہتے خون کا دریا بھنور ہونے لگا حلقۂ موج ہوا کافی نہیں وحشت ابر بدن کے واسطے آغوش کوئی اور ہو ورنہ یوں مردہ سڑک کے خواب آور سے کنارے بے خیالی میں کسی تھوکے ہوئے بچے کی الجھی سانس میں لپٹی ہوئی یہ زندگی! ذہن پر بار گراں بند قبا کے لمس کا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 249 سے 960