شاعری

خود کو خود میں تحلیل کرو

چپ چاپ رہو ورنہ خاموشی کی چادر چاک ہو جائے گی ممکن ہے اس کی یہ پاکی بھی پاکی نہ رہ جائے اور یہیں پھر دن کے ڈھلنے پر احساس گنہ بڑھ جائے پاکی، پاکی نہ رہ جائے اور یہیں یہ خاموشی کی چادر اوڑھ نہ پائے کوڑھ من کا وہ بن جائے بہتر ہے چپ چاپ رہو اس خاموشی کی چادر کو گرد انا سے دور رکھو خود ...

مزید پڑھیے

کسی آئینے کا

میں خود کا تعارف کیا دے سکتا ہوں آئینہ جب مجھ کو میرا ہی چہرہ دکھلاتا ہے جیسے میرا چہرہ میرا نہیں آئینے کا ہے لیکن جس کا چہرہ اپنا ہوتا ہے واقعی اس کا چہرہ ہوتا ہے آئینے ایسے چہرے کو دکھلانے سے عاجز ہوتا ہے وہ اس چہرے کو منعکس کرتا ہے کیوں کہ جو چہرہ، چہرہ ہوتا ہے محتاج نہیں وہ ...

مزید پڑھیے

گھر

دیوار ایسی مت اٹھا پانی مٹی ہوا متصل ہیں آگ نے تپایا ہے انہیں تمہارے فعل منفیہ سے اتصال ٹوٹ جائے گا رنگ زنجیروں سے نہیں بندھتا کوئی گھر دیوار سے نہیں بنتا بنتا ہے کھلے دروازوں سے کھلی کھڑکیوں سے

مزید پڑھیے

آنسو

جب تک نشان پختہ نہیں ہو جاتا آنسو نہیں کہلاتا آنسو سیال صورت نہیں جامدانہ وصف کا بھی حامل ہے قیمت عرض ہنر کی خاطر استقامت ،پختگی اور گرفتگیٔ فکر لازم ہے وقت ہتھیلی پر ٹھہری شبنم کو آئینہ کیا دکھلاتا شبنم خود متصف ہے آئینے کی نوشتہ ہے وقت کی

مزید پڑھیے

اثاثہ

کیوں تم نے پلکوں پر اتنی ساری یادیں یکجا کر لی ہیں ان یادوں کو تہ میں پتلیوں کے رکھ دو تاکہ یادیں رسوائی کی گرد سے میلی نہ ہو جائیں یادیں اثاثہ ہیں گزرے لمحوں کی ان گزرے لمحوں کو حال کے لمحوں میں مدغم کر دو خود کو خود میں ضم کر دو یادوں کو بوجھ سمجھ کر مت جھٹکو ان کو بے پردہ کرنے کی ...

مزید پڑھیے

روحوں کا حوالہ پیار

بندھے ہاتھوں میں ہم نے صبح نو کے چراغ اٹھا رکھے ہیں اپنی آنکھوں کو روشنی کا حوالہ دے کر کتاب ہجر میں ستاروں کو اجال رکھا ہے کبھی تو لے آئیں گی کوئی چاند میری شام کی چوکھٹ پر میری آنکھیں جو انتظار کی دہلیز پر ستارہ بنی بیٹھی ہیں کبھی تو طلوع آفتاب شب کے دہانے پر شبنم کے قطروں کو ...

مزید پڑھیے

شبنمی آنسو

گلاب کی پنکھڑیوں پر یہ شبنمی آنسو شب فراق کی داستاں بیان کرتے ہیں شب ہجر کے انگاروں پر جو میری تنہائی جلتی ہے تو دل کا ضبط مثل شبنمی قطروں کے میری پلکوں سے ٹپکتا ہے اک تم ہی نابلد ہو میرے درد سے وگرنہ فلک بھی میرے سنگ روتا ہے میری پر نم آنکھوں کے لہجے تو تم کبھی نہ جان پاؤ گے مگر ان ...

مزید پڑھیے

ہمیشہ

ہمیشہ ایک لمحہ ہے ہمیشہ جاودانی ہے یہ کچھ گھنٹے ہمیشہ ہیں ہمیشہ زندگی بھر ہے سنو جب کہہ رہے تھے ہم ہمیشہ ساتھ رہنا ہے تو مطلب کیا بھلا اس کا ہمیشہ کس نے دیکھا ہے

مزید پڑھیے

اندازہ

مجھے ہرگز یہ اندازہ نہیں تھا کہ جب تم زینہ زینہ دل میں اترو گے تو اس کے موسموں کو ایک لحظے میں حدوں سے بھی سوا مسرور اور رنجور کر دو گے تم آؤ گے تو جنت اور جہنم ساتھ لاؤ گے خوشی کی آبشاریں غم کے جھرنے ساتھ پھوٹیں گے مرے پھیلائے دامن میں اچانک ہی تصور سے کہیں آگے کا سکھ اور دکھ عطا ...

مزید پڑھیے

مقصدیت

مرے پیارے خداوندا مجھے جب کن کی ساعت میں ترے بے عیب یکتا دست قدرت نے ترے آدم کی باقی بچ رہی مٹی سے گوندھا تھا مرا نقشہ بنایا تھا تو مجھ میں کیا ترے آدم سے کمتر روح پھونکی تھی کہ جیسے بے دلی عجلت میں کوئی کام نمٹایا مری تخلیق کیا خالق تری چشم تصور کی کسی منصوبہ سازی کی نہیں مرہون ...

مزید پڑھیے
صفحہ 238 سے 960