دریا
آؤ میرے پاس آؤ نزدیک یہاں سے دیکھیں اس کھڑکی سے باہر نیچے اک دریا بہتا ہے دھندلی دھندلی ہلتی تصویروں کا خاموشی سے بوجھل زخمی سایوں میں تیر چھپائے تھرتھراتے جلتے کناروں کے پہلو میں بے کل دکھی اسے بھی نیند نہیں آتی
آؤ میرے پاس آؤ نزدیک یہاں سے دیکھیں اس کھڑکی سے باہر نیچے اک دریا بہتا ہے دھندلی دھندلی ہلتی تصویروں کا خاموشی سے بوجھل زخمی سایوں میں تیر چھپائے تھرتھراتے جلتے کناروں کے پہلو میں بے کل دکھی اسے بھی نیند نہیں آتی
ٹھنڈے لفظوں کے چھینٹوں سے بڑی سمجھ داری سے آؤ اس جنجال سے اپنا دامن کھینچ کے ہم اچھے بن جائیں پاک صاف اور نیک بجھا دیں دل بھٹی اپنے ہاتھوں اپنی راہ میں کانٹے بونا اپنا ہی خود دشمن بننا اپنے خون کے پیاسے ہونا سسک سسک کر مرنا اپنی قبر کھودنا پیار کے پیچھے پاگل بننا جان ہتھیلی پر لے ...
بھیگی ہری اوڑھنیاں اوڑھے جوہی چنبیلی چمپا کامنی رس بھری ہواؤں کے تھپیڑوں سے کپکپاتی ہیں گھپ اندھیرے میں جگنوؤں کی بے آواز بوندیں ٹپکتی ہیں بیاکل رات خاموشیوں کے سنگیت میں ڈوب گئی ہے مہکتی سانسوں کے نم جھونکے دبے پاؤں بھیتر آ کر بند آنکھوں کو ہلکے سے چوم لیتے ہیں لیکن وہ لجاتی ...
گھنے بھیانک اندھیروں کی تہیں چیر کر اک کالا پھول نکل آیا ہے کومل ملائم نم پنکھڑیاں جیسے اس بپتا کی ماری کے آنسوؤں سے تر گال جس کا پتی رن بھومی سے نہیں لوٹا چتا میں جلتے صندل کی سی مہک ہے اس میں سوگوار درد کا پیکر پھول اس کی معصوم رنگت سہانی خوشبو کہاں کھو گئی ان ٹہنیوں شاخوں کے ...
تم نے محبت کو مرتے دیکھا ہے؟ چمکتی ہنستی آنکھیں پتھرا جاتی ہیں دل کے دالانوں میں پریشان گرم لو کے جھکڑ چلتے ہیں گلابی احساس کے بہتے ہوئے خشک اور لگتا ہے جیسے کسی ہری بھری کھیتی پر پالا پڑ جائے! لیکن یارب آرزو کے ان مرجھائے سوکھے پھولوں ان گم شدہ جنتوں سے کیسی صندلی دل ...
کالی، جگمگاتی، نرالی راتیں رس بھری، مدماتی راتیں رات کی رانی خوشبو سے بھری تاروں کی مدھم نورانی چھاؤں میں ہلکی ٹھنڈی راتیں بیساکھی ہواؤں ''سارنگی کی لمبی الکسی سسکیوں'' پیار کے رازوں سے بوجھل کہانی راتیں کہاں کھو گئیں ہیں یارب؟ کھو جائیں تو پھر کھو جائیں لیکن وہ من موہک ...
یک رنگ میں سیکڑوں رنگ ہوتے ہیں ہلکے، گہرے، مدھم شفاف روشنیوں سے بھرے، چمکتے، جگمگاتے سرمئی ابریشمی نقابیں ڈالے گھلے ملے دھوپ چھاؤں کی آنکھ مچولی کھیلتے انوکھے نقوش میں ابھرے اڑتے ہوئے یا پھر اتنے گمبھیر جیسے جہازوں کے لنگر ان میں لہریں ہوتی ہیں تڑپتی بے چین طوفانی اور ایسی ...
تم ہی اچھے تھے کسی سے کبھی تکرار نہ کی تم کہ تکرار کے خوگر بھی نہ تھے تم ہی اچھے تھے جو منجملۂ ارباب نظر رہتے تھے شہر پر حوصلہ میں شیوۂ اہل ہنر پر کبھی تنقید نہ کی اتنے بے بس تھے کہ جب وقت پڑا اپنی بھی تائید نہ کی ہم برے لوگ ہیں سچ کہتے ہیں ہم برے لوگ ہیں خوش نودیٔ ارباب اثر کے ...
امن کی چادر میں بارود اور مہلک ہتھیاروں کی گٹھڑی باندھ کے دنیا بھر میں بھیجنے والے بے حس لوگو اپنی سازش گاہ سے باہر جھانک کے دیکھو چہرے پر جانی پہچانی بے مقصد سی کچھ تحریریں تھکے ہوئے پیروں میں بھاگتے رستوں کی ساکت زنجیریں جیسے آزادی کے گھر میں قید ہوں دو ننگی تصویریں خشک لبوں ...
اسے کہنا کبھی ملنے چلا آئے ہمارے پاؤں میں جو راستہ تھا راستے میں پیڑ تھے پیڑوں پہ جتنی طائروں کی ٹولیاں ہم سے ملا کرتی تھیں اب وہ اڑتے اڑتے تھک گئی ہیں وہ گھنی شاخیں جو ہم پر سایا کرتی تھیں وہ سب مرجھا گئی ہیں تم اسے کہنا کبھی ملنے چلا آئے لبوں پر لفظ ہیں لفظوں میں کوئی داستاں قصہ ...